ماسٹر رفیق اومان کی گمشدگی کو 11 سال ہوگئے، معلوم نہیں زندہ ہیں یا نہیں، حکومت انصاف فراہم کرے، اہلخانہ کی پریس کانفرنس
تربت (نمائندہ انتخاب) بلوچی زبان کے معروف گلوکار اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول بل کے ہیڈ ماسٹر رفیق اومان کی گمشدگی کو 11 سال مکمل ہوگئے، تاہم آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ اس موقع پر رفیق اومان کی بیٹی نے اپنی والدہ اور دادی کے ہمراہ تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کی اور والد کی بازیابی کے لیے آواز بلند کی۔ اہل خانہ نے کہا کہ رفیق اومان کو 21 نومبر 2014 کو ایک سرکاری کام کے بعد تربت سے بل نگور جاتے ہوئے راستے میں کیچ گرائمر اسکول کے قریب لاپتہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گیارہ برس گزرنے کے باوجود یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔ رفیق اومان کی بیٹی نے کہا کہ ان کی والدہ آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پائیں کہ وہ بیوہ ہیں یا شوہر کے انتظار میں، جبکہ ان کی چھوٹی بہن نے اپنے والد کو کبھی دیکھا تک نہیں۔ اہل خانہ نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بوڑھی دادی دن رات کرب اور اذیت میں گزار رہی ہیں۔ گرمیوں میں گھر کے اندر اور سردیوں میں راتیں باہر اس انتظار میں کاٹتی ہیں کہ شاید ان کے بیٹے کے بارے میں کوئی خبر ملے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں انہوں نے عدالتوں، کمشنر اور حکومتی اداروں کے دروازے کھٹکھٹائے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اہل خانہ نے حکومت، اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ رفیق اومان کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔


