فورسز پر حملے قابل مذمت، بارڈر کی بندش سے حالات مزید خراب ہوں گے، تربت میں تاجروں کی پریس کانفرنس

تربت (نمائندہ انتخاب) بارڈر ٹریڈ سے وابستہ کاروباری شخصیات ضیا عبدالکریم، سردار ولی یلان زئی، حاجی ناصر بلوچ، حاجی اکبر بلوچ و دیگر نے تربت پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کیچ ایک سرحدی علاقہ ہے جہاں صدیوں سے عوام اپنی گزر بسر بارڈر ٹریڈ کے ذریعے کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کا ذریعہ معاش براہِ راست سرحدی کاروبار سے جڑا ہوا ہے، لیکن گزشتہ برسوں میں حکومتی پابندیوں اور سخت پالیسیوں کے باعث یہ کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے عوام شدید معاشی مشکلات اور نان شبینہ کے محتاج ہو چکے ہیں۔ کاروباری شخصیات نے کہا کہ ضلع کیچ کے بیشتر خاندانوں کی روزمرہ کی ضروریات، بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے کا خرچ اسی بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہے، مگر بار بار کی رکاوٹوں اور بندشوں نے عوام کو ذہنی و معاشی کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ یہ تجارتی تعلق پاکستان بننے سے قبل ہی سے اس خطے کی معیشت کا بنیادی ذریعہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے واقعے کی حمایت نہیں کرتے جو ملکی سالمیت کے خلاف ہو، لیکن سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر بارڈر بند کرنا سراسر زیادتی ہے۔ ان کے مطابق بارڈر بندش سے نہ سیکورٹی کا مسئلہ حل ہوگا بلکہ عوامی بے چینی اور ریاست سے دوری مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس موقع پر سردار ولی نے کہا کہ وہ سیکورٹی فورسز پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ناحق قتل کرنا نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ افسوسناک بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری روزی روٹی بارڈر سے وابستہ ہے، یہاں کوئی فیکٹریاں نہیں ہیں، ہم سفید پوش شہری ہیں، ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ حالات مزید خرابی کی طرف بڑھ جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زراعت کے لیے میرانی ڈیم میں پانی موجود نہیں ہے، جبکہ بینکوں کی طرف سے بھی مقامی لوگوں کو کوئی قرضہ فراہم نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے معیشت مزید دباﺅ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق دونوں طرف خونریزی اور جنگ جاری ہے، ایسے حالات میں ظاہر ہے کہ ایک دوسرے پر حملے ہو سکتے ہیں، لیکن وہ اور ان کے ساتھی اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اس کی حمایت نہیں کرتے۔ کاروباری شخصیات نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہزاروں افراد بے روزگار اور بھوک و افلاس کا شکار ہو رہے ہیں۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے جبکہ گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک واقعے کی سزا پورے بارڈر سے وابستہ عوام کو دینا کھلے عام معاشی قتل کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بارڈر ٹریڈ مسلسل بند رہی تو خطے میں ڈکیتیوں اور دیگر جرائم میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول اگر حکومت نے جلد کوئی عملی اقدام نہ کیا تو وہ مزید احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ بارڈر سے وابستہ لوگوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور آئی جی ایف سی سے اپیل کی کہ وہ انسانی ہمدردی اور معاشی ضرورت کے تحت بارڈر ٹریڈ کھولنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہزاروں خاندانوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں