وزیر اعلیٰ صوبے میں پارٹی کو نظر انداز کر کے دوسروں کو نواز رہے ہیں اپنی باتوں پر قائم ہوں ،علی حسن زہری

حب(این این آئی) رہنماءپیپلزپارٹی صوبائی وزیر زراعت میر علی حسن زہری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی سے اختلافات ہیں کیونکہ وہ صوبے میں پارٹی کو نظر انداز کر کے دوسروں کو نواز رہے بھوتانی صاحب خود کو کرپشن سے پاک کہتے ہیں پیلے وہ حب اور گڈانی کے 4منصوبوں کا حساب تو دیں میرے پاس انکے خلاف 200اسکیموں کی کرپشن کے ثبوت ہیں ،وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی باپ پارٹی سینیٹر دھنیش کمار کو ایک ارب روپے کے فنڈز کس کھاتے میں دیتے ہیں اور حب ڈسٹرکٹ سے اقلیتی ایم پی اے ڈاکٹر اشوک کمار کو صرف 15کروڑ روپے حب میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز دوہ حب کے موقع پر لیڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا میر علی حسن زہری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی سے اختلافات ہیں کیونکہ وہ صوبے میں پارٹی کو نظر انداز کر کے دوسروں کو نواز رہے ہیں اور میں آج بھی اپنی باتوں پر قائم ہوں اور یہ باتیں میں نے پیپلزپارٹی کی قیادت کو اعتماد میں لیکر کہی ہیں اگر پارٹی قیادت کو اعتماد میں نہ لیا ہوتا تو اب تک تردید آجاتی تھی باقی جہاں تک میر علی مدد جتک نے میرے بارے میں جوبات کہی ہے وہ کوئی ایشو نہیں یہ ہمارے آپس کا اور پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے انھوں نے مجھے شیر کہہ کر جس کو خوش کرنا تھا وہ خوش کردیا صدر مملکت ملک سے باہر ہیں وہ جیسے ہی آتے ہیں تو اس مسئلہ پر بھی بات ضرور ہوگی وزیر اعلیٰ فنڈز اپنے حلقہ میں لے جارہے ہیں اور دوسری جماعتوں کو نوازرہے ہیں باپ پارٹی کے سینیٹر دھنیش کمار کو ایک ارب روپے دیئے ہیں دھنیش کمار باتیں کہ انھوں نے ا±س ایک ارب روپے سے حب پر کتنی رقم خرچ کی ہے جبکہ حب سے اقلیتی ممبر اسمبلی ڈاکٹر اشوک کمار کو صرف15کروڑ روپے دیئے گئے ہیں صوبائی وزیر میر علی حسن زہری نے کہا کہ میں نے وزیر اعلیٰ کو کبھی بھی محسن حب نہیں کہا صوبائی حکومت نے حب کیلئے صرف 65ارب روپے کے ماسٹر پلان کی منظوری دی ہے جو کہ PSDPمیں موجود ہے اسکے علاوہ حب کی ترقی کیلئے میں صدر آصف علی زرداری اور پارٹی چیئرمین بلال بھٹو زرداری کی توسط سے وفاق سے فنڈز لارہاہوں تاہم بطور وزیر اعلیٰ میں سرفراز بگٹی کی عزت کرتاہوں اختلافات پارٹی کا معاملہ ہے اس پر ہم پارٹی پالیٹ فارم پر بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں اور پارٹی قیادت کے ہر حکم پر میں لبیک کہونگا انھوں نے کہاکہ وہ وفاق اور بلوچستان میں اقتدار کے حوالے سے دونوں پارٹیوں میں ڈھائی ڈھائی سالہ فار مولہ طے ہوا تھا ان معاملات میں پارٹی قیادت ہی بہتر رائے بتاسکتی ہے میں قبل ازوقت کوئی بات نہیں کر سکتا انھوں نے حب شہر میں صحت وصفائی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پہلے تو حب میں صفائی کیلئے ایک ٹرالی بھی نہ تھی اب میں نے میونسپل کارپوریشن کو مشینری فراہم کردی ہے انشاءاللہ بہت جلد حب شہر صاف ستھرا نظر آئے گا صوبائی وزیر میر علی حسن زہری نے کہاکہ سردار محمد صالح بھوتانی نے پچھلے دنوں وندر میں خود کو کرپشن سے پاک ہونے کا دعویٰ کیا تھا لہٰذا پہلے تو وہ گڈانی پل کے فنڈز کا حساب دیں پل کے صرف چند پلر قائم کر کے باقی کام ادھوری چھوڑ دیا وہ رقم کہاں گئی میں یہ بھی سوال کرونگا کہ گڈانی بچاﺅ بند کے منصوبے کی رقم کہاں گئی ،15ارب روپے کے حب نالہ کی اسکیم کے فنڈز کہاں خرچ ہوئے پیرکس ڈیم منصوبہ ابھی تک ادھورہ کیوں ہے انھوں نے کہاکہ سابق ایم این اے اسلم بھوتانی نے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ایک ارب روپے کے فنڈ ز ملنے کی بات کی تھی وہ ایک ارب روپے کہاں خرچ کئے انکا حساب دیں میر علی حسن زہری نے دعویٰ کیا کہ انکے پاس بھوتانی برادران کی 200چیزوں کے ثبوت ہیں وہ اس بارے میں چیف سیکرٹری ،اداروں اینٹی کرپشن اور نیب کے پاس جائینگے اسکے علاوہ بھی کافی چیزیں ہیں انکے پاس لیکن فی الوقت وہ کل تک صرف حب اور گڈانی کے ان 4منصوبوں کا جواب دیں اور اگر میرے بارے میں انکے پاس ثبوت ہیں تو وہ بھی سامنے لائیں میں سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ ساکران میں ڈیڑھ سو ایکڑ پر کیڈٹ کالج اور حب میں 75ایکڑ پر دانش اسکول بنانے کا منصوبہ ہے لسبیلہ کینال کی مرمت و بحالی ری ماڈلنگ پر 16ارب روپے خرچ کیئے جائینگے زرعی ترقی کے منصوبوں پر 4ارب روپے خرچ کریں گے حب میں لیبر کالونی کے 5000مکانات جبکہ گڈانی میں مزدور اور ماہی گیروں کیلئے 3000گھر بنارہے ہیں اور مامی افراد کو وہ گھر الاٹ ہونگے قبل ازیں انھوں نے حب کے مختلف علاقوں میں سرکاری اسکولوں میں NGOsکی جانب سے اسکولوں کی تزئین و آرائش اور بحالی کے مکمل منصوبوں کا افتتاح کیا صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک فیکٹری کی خاتون ورکر خالدہ بی بی نے صوبائی وزیر سے ملاقات کی اور اپنے ساتھ لیبر کنٹریکٹر کی جانب سے مبینہ ہراسگی کے واقعہ سے متعلق بتایا جس پر صوبائی وزیر نے ایس پی حب کو واقعہ کی تحقیقات کر کے فیکٹری مالک کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی صوبائی وزیر کو متعلقہ افسران نے انکے دورے کے موقع پر حب ماسٹر پلان کے بارے میں بریفنگ بھی دی صوبائی وزیر کے دورہ حب کے موقع پر بلدیاتی اداروں کے چیئرمین و کونسلران اور پارٹی ورکرز بھی ہمراہ تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں