اولین ترجیح غزہ میں نسل کشی کو فوری روکنا تھا، فلسطینی ریاست کا قیام پاکستان کی مشرق وسطی پالیسی کی بنیاد ہے، شہباز شریف
اسلام آباد (صباح نیوز) پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے مصر میں غزہ امن کانفرنس میں شرکت کے بعد منگل کو کہا ہے کہ ان کے ملک کی اولین ترجیح غزہ پر مسلط کی گئی نسل کشی کو فوری روکنا تھا۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف پیر کو مصر پہنچے تھے جہاں انہوں نے شرم الشیخ امن کانفرنس میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی تھی۔انہوں نے یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی خصوصی دعوت کیا۔شہباز شریف نے منگل کو ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ جب میں شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن کانفرنس کے بعد وطن واپس جانے کے لیے طیارے میں سوار ہو رہا ہوں، تو میں اس موقعے پر اپنے چند خیالات شیئر کرنا چاہتا ہوں، ان تاریخی واقعات کی ممکنہ انقلابی نوعیت، اور اس بارے میں کہ پاکستان اس عمل میں اتنی گہرائی سے کیوں شامل رہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سب سے اہم ترجیح غزہ پر مسلط کی گئی نسل کشی کی مہم کو فوری طور پر روکنا تھا۔ دیگر برادر اقوام کے ساتھ مل کر اس ترجیح کو تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا اور تقویت دی گئی۔وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کی غزہ امن معاہدے سے متعلق کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو توقع تھی کہ امریکی صدر اس ظلم کو ختم کریں گے، اور انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ ہم امن کے قیام میں صدر ٹرمپ کے منفرد کردار کو سراہنا جاری رکھیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینی عوام کی آزادی، وقار اور خوشحالی پاکستان کے لیے ہمیشہ بنیادی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک مضبوط اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، پاکستان کی مشرقِ وسطی پالیسی کی بنیاد ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔


