وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف اور عالمی بینک حکام سے ملاقاتیں، آئی ایف سی سے ریکوڈک میں شراکت داری اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری پر اتفاق
اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اپنی ٹیم کے ہمراہ واشنگٹن ڈی سی میں مصروف شیڈول کا آغاز کر چکے ہیں، جہاں وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔وزیر خزانہ نے اپنے سرکاری اجلاسوں کا آغاز عالمی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن آئی ایف سی کے مشرقِ وسطی، وسطی ایشیا، ترکیہ، افغانستان اور پاکستان کے ریجنل نائب صدر رِکارڈو پلیتی سے ملاقات کے ساتھ کیا۔ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کے مضبوط میکرو اکنامک اشاریوں پر روشنی ڈالی۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کے ساتھ آئی ایف سی کی شراکت داری اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ میں اس کے کردار کو سراہا، جس کے تحت 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک سی پی ایف کے تعاون سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ریکوڈک منصوبے کے لیے آئی ایف سی کے فلیگ شپ منصوبے کی فنانشل کلوزر جلد مکمل کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیر خزانہ نے اسلام آباد میں آئی ایف سی کے نئے علاقائی دفتر کے قیام کا بھی خیرمقدم کیا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر ڈاکٹر محمد سلیمان الجاسر سے بھی مفید ملاقات کی۔ وزیر خزانہ نے پاکستان کے لیے بینک کی طویل المدتی معاونت اور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ ملاقات میں پاکستان میں جاری منصوبوں کے پورٹ فولیو کا جائزہ لیا گیا اور منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔سینیٹر اورنگزیب نے موٹروے ایم-6 کے دو سیکشنز کی فنانسنگ کی منظوری پر اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے اور تیل کی فنانسنگ سہولت کے لیے جاری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ دونوں فریقین نے پاکستان کے لیے ایک نئے کنٹری انگیجمنٹ فریم ورک کی تیاری پر اتفاق کیا۔


