پی اینڈ ڈی فنڈز کے لئے مختص کی گئی رقوم پر نظر ثانی کرے،اختر حسین لانگو

کوئٹہ؛پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اختر حسین لانگو کی صدارت میں بلوچستان صوبائی اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا. اجلاس میں محکمہ مواصلات اور محکمہ خزانہ کے ساتھ آڈٹ پیراز زیر بحث آئے ۔ اجلاس میں محکمہ مواصلات نے مختلف پیراز پر وصول کی گئی رقوم کی دستاویزات دیکھائے، آڈیٹر جنرل نے دستاویزات کی تصدیق کی جس پر کمیٹی نے پیراز سیٹل کر لیے۔ محکمہ کے ساتھ دوسرے دن کے اجلاس میں پی اے سی نے محکمہ کے کمپلائنس رپورٹ بھی نمٹا لیے۔
اجلاس کے دوسرے سیشن میں محکمہ خزانہ کے آڈٹ پیراز زیربحث رہے۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ خزانہ نے کہا کہ گزشتہ روز محکمہ بروقت مراسلہ نہ پہنچنے کے سبب پی اے سی کے اجلاس میں شرکت نہ کر سکا، شرکت نہ کرنے پر پی اے سی سے معذرت چاہتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم سرکار کے ملازم ہیں لہٰذا ہم اسمبلی اور اسکے کمیٹیز کی اہمیت و افادیت کو بہتر سمجھتے ہیں۔ اجلاس میں وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ اسمبلی سے حکومتیں بنتی ہیں اور اسمبلی صوبے کا سب سے اعلیٰ ادارہ ہے لہذا کسی بھی محکمے کو اسمبلی کے استحقاق کا خیال رکھنا چاہئیے۔ اجلاس میں سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ نے ممبران اسمبلی سے التماس کی کہ محکمہ خزانہ کو معاف کر کے تحریک استحقاق واپس لیا جائے اس پر چئیرمین پی اے سی نے کہا کہ یہ کمیٹی مالیات کا سب سے بڑا فورم ہے اور عوام کے پیسوں کا حساب کتاب ہم ہی نے لینا ہے ۔ ممبران کمیٹی نے محکمہ کو تنبیہ کی کہ کسی بھی مجبوری کی صورت میں کمیٹی کو آگاہ کیا جائے کہ متعلقہ محکمہ کسی بھی مجبوری کے باعث اجلاس میں حاضر ہونے سے قاصر رہےگا۔ اجلاس میں ممبران کمیٹی نے وزیر خزانہ، سیکرٹری اسمبلی اور سیکرٹری خزانہ کے گزارشات پر اپنی تحریک استحقاق واپس لے لی۔ اجلاس کے دوران چئیرمین پی اے سی نے موقف اختیار کی کہ ہم کسی بھی محکمے کے اچھے کاموں کو سراہتے ہیں ۔ اس سے قبل اسی فورم پر ہم نے مسئلہ اٹھایا تھا کہ جب کشی دور افتادہ ڈسٹرکٹ کا کوئی پینشنر اپنے پینشن اور جی پی فنڈ کے لئے کوئٹہ ہے تو اسے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب محکمہ خزانہ نے پی اے سی کی سفارشات کی روشنی میں پینشنرز کے پینشن او جی پی فنڈ کے لئے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ قابل تحسین ہے ۔
چئیرمین پی اے سی نے کہا کہ محکمہ منصوبہ بندی اور ترقی، فنڈز کے لئے مختص کی گئی رقوم پر نظر ثانی کرے کیونکہ فنڈز میں کمی کی وجہ سے کئی اسکیمات ادھورے رہ جاتے ہیں جس سے صوبہ کا نقصان ہوتا ہے۔ اجلاس میں ممبران کمیٹی زمرک خان اچکزئی، ثناءاللہ بلوچ، ظہور احمد بلیدی، ملک نصیر شاہوانی اور نصراللہ زیرے نے شرکت کی۔ محکمہ خزانہ سے سیکرٹری اور دیگر حکام نے شرکت کی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں