پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس، کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ میں 9 ارب کی بے ضابطگیوں پر شدید برہمی کا اظہار

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی (PAC) کا اہم اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ، محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ اطلاعات سے متعلق آڈٹ پیراز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اراکین ولی محمد نورزئی، غلام دستگیر بادینی، محمد خان لہڑی، صفیہ بی بی، ایاز مندوخیل، سیکریٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، سیکریٹری اطلاعات عمران خان، ڈی جی آڈٹ بلوچستان شجاع علی، ڈی آئی جی جیل خانہ جات ضیا ترین، ڈی جی پی آر بلوچستان محمد نور کھیتران اور دیگر افسران شریک ہوئے۔پہلے مرحلے میں کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ سے متعلق آڈٹ پیراز میں 2.280 بلین روپے کے غیر قانونی ٹھیکے اور 9 ارب روپے کی بے ضابطگیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے انکشاف کیا کہ منصوبہ این آر ٹی سی کے بجائے ایس سی او کو دیا گیا، حالانکہ این آر ٹی سی نے مالی و تکنیکی بنیادوں پر زیادہ نمبر حاصل کیے تھے۔ اراکین نے اسے بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ رولز 2014 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔چیئرمین اصغر علی ترین نے کہا کہ "800 کیمروں میں سے 600 غیر فعال ہیں، 9 ارب خرچ ہونے کے باوجود عوام کو تحفظ نہیں مل سکا، یہ غیر مثر منصوبہ بندی اور بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔”اراکین ولی محمد نورزئی، حاجی محمد خان لہڑی، غلام دستگیر بادینی اور صفیہ بی بی نے بھی محکمہ کی کارکردگی کو ناقص اور جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ PAC خود منصوبے کا معائنہ کرے گی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کو ایک ماہ میں انکوائری مکمل کرنے کا حکم دیا گیا، بصورت دیگر معاملہ نیب کے حوالے کیا جائے گا۔مزید برآں، 230.335 ملین روپے کی غیر قانونی ایڈوانس ادائیگی پر بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے 15 دن میں مکمل ریکوری کا حکم دیا گیا۔محکمہ جیل خانہ جات سے متعلق آڈٹ پیراز میں 11.327 ملین روپے کے نقصانات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی نے ہدایت دی کہ ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کی جائے۔ چیئرمین PAC نے جیلوں میں صاف پانی، ادویات، اور بحالی کے انتظامات کی بہتری پر زور دیا اور سفارش کی کہ جیل ملازمین کے الانسز دیگر محکموں کے برابر کیے جائیں۔محکمہ اطلاعات سے متعلق آڈٹ پیراز پر بھی سخت ریمارکس دیے گئے۔ کمیٹی نے کہا کہ 2018 تا 2021 کے دوران 424.754 ملین روپے کے اشتہارات میں 56.518 ملین کے ٹیکس کی کٹوتی نہ ہونا تشویشناک ہے۔چیئرمین PAC نے کہا کہ "ایک مالی طور پر کمزور صوبے میں اشتہارات پر اتنی بڑی رقم خرچ کرنا افسوسناک ہے۔” کمیٹی نے محکمہ اطلاعات کو ٹیکس ریکوری اور غیر مجاز بینک اکانٹس کے خاتمے کی ہدایت دی۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین اصغر علی ترین نے واضح کیا کہ پبلک اکانٹس کمیٹی صوبے میں شفافیت، احتساب اور مالی نظم و ضبط کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ "قواعد کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، تمام محکمے مقررہ مدت میں عملدرآمد یقینی بنائیں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں