حیات بلوچ ک قتل، بی این پی نے بی ایس او کے احتجاجی شیڈول کی حمایت کا اعلان کردیا
کوئٹہ، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نزیر بلوچ نے شہید حیات بلوچ کو انصاف فراہمی احتجاجی مہم کے سلسلے میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ سے ملاقات کیا ملاقات میں سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اس موقعے پر بی این پی کے مرکزی نائب صدر نے تمام اضلاع میں بی ایس او کے تحت احتجاجی کیمپس کے حمایت کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ حیات بلوچ کے شہادت کا واقعہ بلوچستان میں ماروائے عدالت قتل کا پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی ویرانوں میں بلوچ نوجوانوں کو قتل کرکے لاشیں پھینکی گئی جس پر آج تک کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوسکا فورسز کے کے خلاف عوامی نفرت گذشتہ کئی عرصے سے جاری مظالم کی وجہ سے ہے حالیہ واقعہ پر شدید عوامی ردعمل کے بعد ایک ملزم کو پولیس کے حوالے کیا گیا لیکن اسکی کون گارنٹی دے گا کہ اس کے بعد بلوچ کا خون نہیں بہے گا اور انصاف ہوگا ایسے واقعات کے روک تھام کے لئے پالیسی و بلوچ دشمن زہنیت کو تبدیل کرنا ہوگا اسطرح کے واقعات بلوچستان میں مختلف طریقوں سے تسلسل کے ساتھ جاری یے جنکے روک کے تھام کے لئے سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا پرامن احتجاج کو بھی برداشت نہ کرنا قابل مذمت ہے اس موقعے پر بی ایس او کے چیئرمین نزیر بلوچ نے کہا کہ بی ایس او کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ نوجوانوں کو جذبات کے بجائے تعلیمی اداروں میں مصروف عمل کیا جائے حالیہ احتجاجی مہم کا مقصد پرامن سیاست کے زریعے بلوچ نوجوانوں کو سیاسی عمل کا حصہ بنانا ہے حیات بلوچ کے شہادت جیسے واقعات کا مقصد نوجوانوں کو کتاب و قلم کے جدوجہد سے مایوس کرنا یے لیکن جدید صدی صرف پرامن انداز سیاست کے زریعے کی جاسکتی ہے لیکن پرامن احتجاج کا راستہ روکنے کے لئے سرکاری مشنری بڑی تیزی کے ساتھ ایکٹیو ہوچکی ہے لیکن ایسے واقعات کے روک تھام کے لئے سرکاری سطح پر کوئی سنجیدگی نہیں نہ ہی بلوچستان کے حوالے سے منفی زہنیت میں کوئی تبدیلی آئی ہے جب تک منفی بلوچ دشمن زہینت کے بنیاد پر پالیسیاں بنتے رہے گی ایسے واقعات مختلف طریقوں سے جاری رہے گی بلوچ قوم کسی صورت ظلم و جبر کے پالیسی کو قبول نہیں کرے گی۔


