بلوچستان میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریض 3303 تک جاپہنچے، سب سے زیادہ تعداد کوئٹہ میں ہے، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز بلوچستان
کوئٹہ(این این آئی)ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز محکمہ صحت بلوچستان ڈاکٹر ہاشم مینگل ،صوبائی کوارڈی نیٹر پروانشل ایڈز کنٹرول پروگرام ڈاکٹر سحر ین نوشیروانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 3303جاپہنچی ہیں جن میں خواتین 707اور ٹرانس جینڈر کی تعداد90ہے ،ایک سال کے دوران صوبے میں جاں بحق ہونے والے ایڈز کے مریضوں کی تعداد452ہے یہ بات انہوں نے اتوار کو ڈاکٹر خدائیداد عثمانی ، ڈاکٹر احسان اللہ اور محمد خان زہری کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ ایڈز کی روک تھام کا عالمی دن ہر سال یکم دسمبر کو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں منایا جاتا ہے اور اس دن کو منانے کا مقصد اس مہلک و جان لیوا مرض کے خلاف شعور و آگہی پیدا کرنا اور ان لوگوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جو ایڈز کی وجہ سے وفات پا چکے ہیں ریڈ ربن عالمی سطح پر ان لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی علامت ہے جو ایڈز میں مبتلاہو چکے ہیںہر سال عالمی ایڈز ڈے کے موقع پر اس دن کا ایک موضوع ہوتاہے اس سال 2025 کا موضوع تعطل پر قابو پانا اور ایڈز کے ردعمل کو تبدیل کرناہے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈز ایک جان لیوا مرض ہے ایڈز کے وائرس کو ایچ آئی وی یعنی انسانی جسم کی قوت مدافعت میں کمی کو کہا جاتاہے ایچ آئی وی ایک ایسا وائرس ہے جس سے ایڈز کی بیماری لگ سکتی ہے یہ وائرس کچھ عرصے کے بعد جسم کی مدافعتی نظام کو تباہ کردیتا ہے دفاعی نظام کے مفلوج ہونے کی صورت میں جو بھی بیماری انسان کے جسم میں داخل ہو جاتی ہے وہ سنگین اور مہلک صورت اختیار کر جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ کن چیزوں سے ایچ آئی وی وائرس ایک تندرست اور صحت مند شخص میں داخل ہو سکتا ہے ایچ آئی وی انسانی جسم میں تین طریقوں سے داخل ہو سکتا ہے اول انتقال خون یعنی کسی مریض کو ضرورت کے وقت جب کسی دوسرے انسان کا خون لگایا جاتا ہے اور اس خون کا ٹیسٹ نہیں کیا جاتا ، ایچ آئی وی سے متاثرہ شخص کے استعمال شدہ سرنج کو استعمال کرنے سے، آلات جراحی ،حجام کے استعمال میں آنے والے آلات یعنی بلیڈ اور استرا ، کان ناک میں سوراخ کرنے کے لئے استعمال میں آنے والے آلات سے اور اسی طرح دانت نکلواتے وقت استعمال ہونے والے آلات سے داخل ہوتا ہے دوسرا طریقہ متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے میں یہ داخل ہو جاتاہے جبکہ تیسرا ذریعہ کسی ایچ آئی وی متاثرہ شخص سے غیر محفوظ جنسی تعلقات روا رکھنے سے ہوتا ہے تاہم اس وائرس کے انسانی جسم میں داخل ہونے کے اور بھی طریقے بتائے گئے ہیں بلوچستان میں انجکشن کے ذریعے نشہ لینے والے نشہ کے عادی افراد میں ایچ آئی وی کے وائرس زدہ افراد کی تعداد زیادہ ہے دوسرا بڑا ذریعہ مرد کے ساتھ جنسی تعلقات جن میں ہیجڑے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد بڑھ چکی ہے تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ ایڈز کی بیماری کے علامات والے مریض اب ٹیسٹ کرنے اور رجسٹرڈ ہونے کی جانب راغب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے تحت اس وقت بلوچستان میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد اس وقت بڑھتے ہوئے 3303 تک جاپہنچی ہے جبکہ 2024 میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 2851 تھی اس طرح ایک سال میں 452 ایڈز کے مریض بڑھ چکے ہیں مرد مریضوں کی تعداد 2024 میں 2075 جبکہ خواتین کی تعداد 600 تھی لیکن اس سال 2025 میں مرد مریضوں کی تعداد 2362 اور خواتین کی تعداد 707 تک جاپہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایڈز کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد کوئٹہ میں ہے جو 2614 تک جاپہنچی ہے اس میں 90 ٹرانس جینڈر بھی شامل ہیں جبکہ تربت میں 368، حب میں 159، نصیر آباد میں 66 اور لورالائی میں 96 ایڈز کے مریض رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام محکمہ صحت حکومت بلوچستان نے صوبے کے تمام شہروں کے سرکاری ہسپتالوں میں مفت اسکریننگ ٹیسٹ کی سہولت مہیا کی ہے جبکہ کوئٹہ اور تربت سمیت صوبے کے چھ اضلاع میں ایڈز تھراپی سنٹرز بھی قائم کئے ہیں جہاں پر ایڈز کے مریضوں کا مفت علاج ومعالجہ کیا جاتا ہے بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور اس کی ایک بنیادی وجہ لوگوں کا اس مرض سے متعلق معلومات کا نہ ہوناہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام سال بھر صوبے کے مختلف علاقوں میں مختلف نوعیت کی سروسز سرگرمیاں جاری رہتی ہیں اور مختلف اضلاع کے دورے کئے جاتے ہیںضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب ملکر اور مہلک مرض سے بلوچستان کو نجات دلانے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔


