آئی ڈی ایس پی اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے خواتین صحافیوں کیلئے فیزیکل اور آن لائن تربیتی سیشن

کوئٹہ (ویب ڈیسک) انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اسٹڈیز اینڈ پریکٹس (IDSP) اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے صوبہ بلوچستان کی خواتین جرنلسٹس کے لیے سلوشن جرنلزم، موبائل جرنلزم اور کلائمیٹ نیریٹو بلڈنگ کے موضوعات پر ایک فیزیکل اور آن لائن تربیتی سیشن کا انعقاد آئی ڈی ایس پی یونیورسٹی ہنہ اوڑک میں کیا گیا۔ تربیتی سیشن میں ایف سی سی یونیورسٹی کے فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر الطاف اللہ خان، یونیورسٹی آف بلوچستان کے شعبہ میڈیا اسٹڈیز کے لیکچرر مالک اچکزئی اور موبائل جرنلزم کے ماہر و انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس (ICFJ) کے المنائی سید ضیا آغا نے بطور ٹرینرز شرکت کی جبکہ آئی ڈی ایس پی کی کمیونیکیشن لیڈ فریدہ گل نے تمام سیشنز کی ماڈریٹر کے فرائض انجام دیے۔ پروفیسر ڈاکٹر الطاف اللہ خان نے اپنے خطاب میں خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر باعث فخر ہے کہ مختلف کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین جرنلسٹس سلوشن جرنلزم کے ذریعے کلائمیٹ چینج جیسے اہم اور حساس موضوع پر تربیت حاصل کر رہی ہیں، جو مستقبل میں فیلڈ میں مثبت اور بامقصد صحافت کو فروغ دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ وقت گزر چکا ہے جب صحافی محض ادارہ جاتی دباﺅ کے تحت رپورٹنگ کرتے تھے، آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے جرنلسٹس کو بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں، تاہم ضروری ہے کہ نوجوان صحافی سماجی اقدار اور صحافتی اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کلائمیٹ چینج، جنڈر اور دیگر اہم مسائل کو ذمہ داری سے کور کریں۔ انہوں نے میس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو میڈیا لٹریسی کو پرائمری تعلیم کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ عوام سوشل میڈیا کا مثبت اور مو¿ثر استعمال کر سکیں اور مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ یونیورسٹی آف بلوچستان کے لیکچرر مالک اچکزئی نے میڈیا کے ذریعے سماجی اور سیاسی بیانیوں کی تشکیل میں اس کے اثر انگیز کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سماجی اقدار، سیاست اور نفسیات کی تشکیل میں میڈیا کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین چونکہ آبادی کا نصف حصہ ہیں، اس لیے خواتین جرنلسٹس میڈیا کے ذریعے ان کی آواز کو مو¿ثر انداز میں ایوان اقتدار تک پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسٹوری رائٹنگ اور میڈیا نیریٹو کو لوکلائز کرنے کے لیے مقامی صحافیوں کو خود آگے آنا ہوگا۔ موبائل جرنلزم کے ماہر سید ضیا آغا نے موبائل جرنلزم کے عملی استعمال پر تفصیلی سیشن دیا اور شرکاءکو موبائل کے ذریعے کلائمیٹ چینج اور خواتین کو درپیش مسائل پر اسٹوریز ریکارڈ کرنے کی عملی مشق بھی کروائی۔ آخر میں آئی ڈی ایس پی کی کمیونیکیشن لیڈ فریدہ گل نے تمام ٹرینرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئی ڈی ایس پی مستقبل میں بھی ایسی تربیتی سرگرمیوں کو مزید وسعت دے گا تاکہ خواتین جرنلسٹس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں