بلوچستان میں پشتون علاقوں کی تاریخی و جغرافیائی حیثیت سے چھیڑ چھاڑ کسی صورت قبول نہیں، پشتونخواہ نیپ
کوئٹہ(یو این اے )پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں صوبائی حکومت بالخصوص وزیراعلی کی جانب سے بلوچستان میں نئے اضلاع اور ڈویژن کے قیام سے متعلق فیصلوں پر شدید تحفظات اور گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلے عوامی مشاورت، تاریخی حقائق اور زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے ذاتی منشا اور مخصوص ادارہ جاتی اثر و رسوخ کے تحت کیے جا رہے ہیں، جو ناقابلِ قبول ہیں۔پریس ریلیز میں ڈیڑھ سو سالہ تاریخی، انتظامی اور جغرافیائی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے تحصیلوں اور علاقوں کی ازسرِنو تقسیم کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ اس پورے عمل میں پشتون قوم اور اس کے حقیقی نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ پارٹی کے مطابق ایسے یکطرفہ فیصلے پشتون عوام کو کسی صورت قبول نہیں ہوں گے۔بیان میں کہا گیا کہ جنوبی پشتونخوا طویل عرصے سے سیاسی، انتظامی اور ترقیاتی نظراندازگی کا شکار ہے اور اب ان فیصلوں کے ذریعے پشتون سرزمین کو اس کے تاریخی و تہذیبی تشخص سے کاٹنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ سبی کی تاریخی حیثیت کو ختم کر کے اسے لہڑی کے دائرہ اختیار کے رحم و کرم پر چھوڑنا افسوسناک اقدام قرار دیا گیا۔اسی طرح پنجپائی کو کوئٹہ سے الگ کرنے اور غزہ بند و اجرم یونین کونسل نمبر 1 اور 2 کو گردگاب و کانک کے ساتھ ملا کر نیا ضلع بنانے کی کوششوں کو پشتون دشمن پالیسی قرار دیا گیا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ اقدامات عوامی خواہشات اور زمینی حقائق کے منافی ہیں۔پریس ریلیز میں کہا گیا کہ مسلم باغ، سنجاوی، توبہ کاکڑی، برشور، حرمزئی تحصیل اور کاریزات کو اضلاع کا درجہ دینا پشتون عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے، مگر وزیراعلی اپنے محض پانچ یونین کونسلوں پر مشتمل علاقے بیکڑ کو ضلع بنانے پر اصرار کر رہے ہیں، جبکہ پشتون علاقوں کے جائز مطالبات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔بیان میں ضلع شیرانی کے خاتمے سے متعلق خبروں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پشتون عوام کے آئینی، تاریخی اور سیاسی حقوق پر حملہ قرار دیا گیا۔ آخر میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے تمام پشتون عوام اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ان فیصلوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔


