’’مجھ سے پہلے تم مارے جائو گے‘‘ میر حاصل بزنجو کی باتیں ساری زندگی یاد رہینگی،سرفراز بگٹی

کوئٹہ :بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر میر سرفراز احمد بگٹی نے میر حاصل بزنجو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم میر حاصل بزنجو نے آمریت کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں شخصی آمریت کیخلاف جدوجہد کرتے رہے اور ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا ہے ان کی وفات سے بلوچستان میں رہنے والے مڈل کلاس کے لوگ یتیم ہوئے ہیں ان خیالات کااظہارانہوں نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آخری ملاقات میں میں نے ان سے پوچھا کہ میر صاحب کہ آپکی اور کینسر کی لڑائی کیسی جارہی ہے تو انہوں نے کہا کہ جس طرح تم نے ڈیرہ بگٹی میں وہاں کے سرداروں کو چیلنج کیا ہوا ہے وہ سردار میرے کینسر سے زیادہ خطرناک ہے مذاق میں انہوں نے کہا کہ مجھ سے پہلے تم مارے جائوں گے مجھے یہ الفاظ ساری زندگی یاد رہیں گے انہوں نے کہا کہ میرکز میں جب میاں صاحب کی حکومت تھی تو بلوچستان میں سردار ا ختر جان مینگل وزیراعلیٰ جبکہ حاصل بزنجو ان کے قریبی ساتھی تھے فرنٹیئر کور جو وفاقی ادارہ ہے کو حکم ملا کہ ہمارے گھروں کا گھیرائوکریں اور انہیں مسمار کریں اور انہوں نے کہا کہ قبائلی معاشرے میں جب بات گھر کی آتی ہے تو بہت کشت وخون ہوتا ہے میرے والد نے میر حاصل بزنجو کوفون کیا کہ آپ جس شخص کے بیٹے ہیں آج ہمارے ریاست ہمارے خلاف ہمارے گھروں اور چادر وچار دیواری کو پامال کررہی ہے ہماری دشمنی اپنی جگہ آج ریاستی ادارے ہمارے خلاف استعمال ہورہے ہیں تو وہ فون اس وقت تک آن تھا جب تک میر حاصل بزنجو سردار اختر جان مینگل کو قائل کرتے بعد میں نواب اکبر خان بگٹی ان سے ناراض ہوئے لیکن میر حاصل بزنجو نے حق کا ساتھ دیا میر حاصل بزنجو نے جہاں آمریت کیخلاف جدوجہد کی وہاں بلوچستان میں شخصی آمریت کیخلاف بھی کھڑے رہیں یہاں آکر تو ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں اٹھارویں ترمیم اور دیگر چیزیں ہیں لیکن گرائونڈ میں جاکر بلوچستان میں جب پہنچتے ہیں تو وہاں پر شخصی آمریت کو سپورٹ کرنے میں لگ جاتے ہیں میر حاصل بزنجو کے انتقال سے مڈل کلاس کے لوگ یتیم ہوئے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں