اختر مینگل سے کوئی اختلاف نہیں، بی این پی کے سخت گیر موقف کے باعث علیحدگی کی، پی این پی عوامی کو دوبارہ منظم کریں گے، احسان شاہ

تربت (بیورو رپورٹ) پاکستان نیشنل پارٹی عوامی بحال، پارٹی عہدے ، تنظیم ، جھنڈا اور دفتر انضمام سے قبل کی پوزیشن پر بحال۔ سابق صوبائی وزیر و سابق سینیٹر سید احسان شاہ نے جمعہ کے روز پارٹی آفس میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کو بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج سے پاکستان نیشنل پارٹی عوامی انضمام سے قبل کی پوزیشن پر بحال ہے پارٹی عہدیداران ، جھنڈا اور پارٹی ادارے سابق پوزیشن پر بحال کردئیے جاتے ہیں۔ ہم نے بلوچستان اور بلوچ کے مفاد میں ڈھائی سال قبل بی این پی کے ساتھ انضمام کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی این پی یا سردار اختر مینگل کے ساتھ کوئی رنجش اور اختلاف نہیں مگر ہم وہاں فٹ نہیں ہوسکے کیونکہ ہمارے کارکنان کا مزاج اور تربیت مختلف ہے جو بی این پی کی سخت لائن اور پالیسیوں کے مطابق چلنے کے متحمل نہیں ہوسکتے تاہم سردار اختر اور پارٹی کے ساتھ ہمارے تعلقات میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑے گا اور عزت و احترام کا رشتہ قائم ودائم رہے گا۔ پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کے کارکنان اور ہمدرد و خیرخواہ سوشل میڈیا پر بی این پی کے حوالے سے کسی قسم کے منفی کمنٹس ، اشتعال انگیزی یا جذباتی لہجہ کے استعمال سے گریز کریں۔ سیاسی لائن کی علیحدگی کے باوجود ہمارے تعلقات پہلے کی طرح قائم ہیں ۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک سنگین مسئلہ ہے پی این پی عوامی سمجھتی ہے کہ اس مسئلہ کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے اور کوئی بہتر اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جائے اور اگر بچوں سے کوئی غلطی وغیرہ ہوئی ہے تو اسے قانونی طریقہ کار اور درگزر کرنے کی ضرورت ہے۔ لاپتہ افراد اور بلوچستان کے مختلف ایشوز پر ایوان بالا سینیٹ میں ہماری سینیٹر نے موثر انداز میں آواز اٹھائی ہے۔ جبکہ مقامی سطح پر عوامی ایشوز پر میر غفور احمد بزنجو بھی متحرک کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نیشنل پارٹی عوامی بارڈر کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتی ، بارڈر کے حوالے سے یہاں کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں پر روزگار کے ذرائع ناپید ہیں صنعتیں نہیں ہیں بینک یہاں کے بیروزگاروں کو روزگار نہیں دیتے ، لاکھوں لوگوں کا گزر بسر بارڈر سے وابستہ ہے۔ تاہم موجودہ حکومت کی ترقیاتی منصوبوں اور گرین بس جیسے اقدامات کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی تربت آمد اور گرین بس افتتاح کے جلسے میں پی این پی عوامی کی قیادت اور کارکنان بھرپور شرکت کریں گے کیونکہ بلوچستان میں کوئٹہ کے بعد تربت دوسرا شہر ہے جہاں گرین بس سروس شروع کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کے منشور میں روزگار کی فراہمی پہلی ترجیح ہے تاہم ہمارے سابق دور کے 760 پوسٹوں پر نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما راحب بلیدی نے عدالت سے اسٹے کرایا تھا جو یہاں کے بیروزگاروں کے ساتھ ایک صریح زیادتی اور ناانصافی ہے نیشنل پارٹی کے ورکر اپنی قیادت سے پوچھیں کہ یہ 760 پوسٹ کہاں گئے یہ پوسٹ یہاں کے نوجوانوں کا حق ہیں ان پر بھرتی کرائیں چاہے اپنے ورکروں کو لگائیں مگر یہ پوسٹ آنے چاہئیں۔ اس موقع پر پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی قائدین میر غفور احمد بزنجو ، قاضی نور احمد ، حیات برق ، سید تیمور شاہ ، میر مراد جان گچکی ، حاجی نصیر احمد زامرانی ، گل خان بلوچ ، میران حیات ، اسفند یار بزنجو ، جیہند علی سمیت دیگر رہنما اور سینکڑوں کارکنان موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے