تاریخ کوئٹہ، محمود خان اچکزئی اور انگریز لکھاری

تحریر: جیئند ساجدی
فرانس فینن نامی ایک فلسفی سامراجی یا کالونیل لکھاریوں کی لکھائی کے متعلق لکھتے ہیں کہ سامراج صرف طاقت کے بل بوتے پر مقامی لوگوں کو قابو نہیں رکھناچاہتا بلکہ مقامی آبادی کے دماغوں کو خالی کرکے اپنے خیالات بھی مسلط کرنا چاہتا ہے۔ اکیڈمیا کی دنیا میں جو طلبہ اور ماہر تعلیم کالونیلزم اور پوسٹ کالونیلزم کا مطالعہ کرتے ہیں ان کے مطابق سامراجی دانشوروں کی لکھائی کا مقصد کبھی بھی علمی نہیں ہوتا بلکہ سیاسی ہوتا ہے، ان کی لکھائی کا مقصد اپنی کالونیز میں اپنی غیر قانونی حکومت کو جائز قرار دینا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے افریقی کہاوت ہے کہ جب تک شیر کو خود لکھنا نہیں آئے گا اس وقت تک تاریخ ہمیشہ شکاری ہی کی تعریف کرے گی۔ سامراجی لکھاری کبھی بھی مفتوحہ اقوام کی تاریخ کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی لکھائی میں مفتوحہ اقوام یا علاقے کی تاریخ کا ذکر ملتا ہے، ان لکھاریوں کیلئے یہ علاقے "Virgin Land” جس کا مطلب یہ ہے کہ اس علاقے کی تاریخ اس وقت سے شروع ہوئی ہے جب سے ان کی سلطنت یہاں قائم ہوئی ہے، کالونیل لکھاریوں کے علاوہ کالونیل تعلیم دانوں کا مقصد بھی علمی نہیں ہمیشہ سیاسی رہا ہے۔ موجودہ ہندوستان اور پاکستان میں تعلیم متعارف کرانے والے انگریز سرکاری ملازم کا نام لارڈ میکولی ہے، انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہندوستان میں انگریزوں کے تعلیمی نظام کا مقصد یہ تھا کہ وہ ایک ایسے ہندوستانی طبقے کو جنم دیں جو محض رنگ کے لحاظ سے ہندوستانی ہوں لیکن سوچ کے لحاظ سے انگریز۔
ایک معروف کتاب "Pedagogy of the Oppressed” یعنی (مظلوموں کی تعلیم) کے مصنف یہ لکھتے ہیں کہ جب ایک ظالم ایک مظلوم کو تعلیم دیتا ہے تو ایسی تعلیم دینے کا مقصد مظلوم طلبہ کو تخلیق سے دور رکھنا ہوتا ہے تاکہ ان میں کبھی بھی شعور نہ آئے اور وہ اپنے بیرونی حکمرانوں کو جائز حکمران سمجھتے رہیں۔
کچھ روز قبل محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں سیاق و سباق سے ہٹ کر کوئٹہ کی تاریخ پر گفتگو کی اور اپنی رائے کو درست ثابت کرنے کیلئے انگریزوں کی کتابوں کا حوالہ دیا۔ یہ ایک تعجب خیز بات نہیں کیونکہ جب بھی موصوف بلوچ یا بلوچستان کے متعلق گفتگو کرتے ہیں تو صرف دو انگریز لکھاریوں کی کتابوں کا حوالہ دیتے ہیں، ان میں سے ایک ”گزیٹر آف بلوچستان“ ہے۔ ان کی حالیہ تقریر میں انہوں نے کالونیل لکھاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا کہ میں نہیں انگریز لکھتا ہے کہ کوئٹہ خالص افغانوں کا شہر ہے اور بلوچ گنتی میں نہیں آتے، باقی یہ کہ یہاں کسی بلوچ سردار وغیرہ کی دس ایکڑ بھی پدری جائیداد نہیں ہے، ان کی دوسری بات کا ذکر انگریز لکھاریوں نے بھی نہیں کیا۔ اگر ”گزیٹر آف بلوچستان“ کو کالونیل یا پوسٹ کالونیلزم کا کوئی طالبعلمتنقیدی مطالعہ کرے تو یہی اخذ کرے گا کہ یہاں ایک اقلیت (بلوچ) ایک اکثریت (پشتون) پر حکومت کررہی ہے اور یہ ایک کثیر القومی علاقہ ہے لہٰذا وہ مقامی رہنما جو انگریز کو فرنگی سمجھتے ہیں اور قومی ریاستوں کا مطالبہ کرتے ہیں عام عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ یہ علاقہ خود کثیر القومی علاقہ ہے اور ایک قوم دوسری قوم سے کوئی مماثلت نہیں رکھتی، وہ الگ الگ زبانیں بولتے ہیں اور مختلف ثقافتوں کے حامل ہیں، لہٰذا ان کی حکومت کے بعد یہ علاقہ خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔
نام نہاد گزیٹر جو 1901ءمیں لکھا گیا ہے اس سے سو سال قبل پورا یورپی براعظم جہاں سے انگریزوں کا تعلق ہے اس براعظم نےنیشنلزم کی لہر کو دیکھا تھا اور بہت سے یورپی قوم پرست رہنماﺅں نے یا چھوٹی اقوام نے کثیرالقومی سلطنتوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور اس کی جگہ قومی ریاستوں کا مطالبہ کیا۔ اس لہر کو روکنے کیلئے اس وقت کی بڑی کثیر القومی سلطنتوں جیسا کہ برطانیہ، پروشیا (موجودہ جرمنی)، آسٹریا نے 1814ءمیں نیپولین کو شکست دیکر چھوٹی اقوام پر کانگریس آف ویانا مسلط کردیا تھا تاکہ قومی ریاستیں جنم نہ لیں۔ مثال کے طور پر بیلجیئم کو جبراً ہالینڈ کا حصہ بنایا گیا حالانکہ ان دونوں پڑوسی اقوام کی دیرینہ دشمنی تھی۔ اس کے علاوہ یہ دونوں پڑوسی مختلف مذہبی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی طرح سامراجی سلطنتوں نے ناروے کو مقامی آبادی کی مرضی کے بغیر سوئیڈن کا حصہ بنایا اور ان دونوں پڑوسی اقوام کے تعلقات بھی تاریخ میں کبھی خوشگوار نہیں رہے تھے، انہی سامراجی قوتوں نے یورپ کے علاوہ اپنی ایشیائی افریقی کالونیز میں بھی مفتوحہ علاقوں کی ڈیموگرافی کو بری طرح بگاڑ دیا اور اکثر کثیر القومی ریاستیں تشکیل دینے کی کوششیں کی اور جہاں یہ کثیر القومی ریاستیں تشکیل دینے میں ناکام رہے وہاں انہوں نے مفتوحہ لوگوں کے آپسی اختلافات کو یوں پیش کیا کہ جیسا کہ اگر ان کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے تو یہ علاقے خانہ جنگی کا شکار ہوجائیں گے۔
آسٹروی سلطنت نے بہت بڑی مدت تک اٹلی پر اپنی حکومت قائم کی، آسٹروی ڈکٹیٹر میٹر نک نے اٹلی کے متعلق یہ الفاظ کہے کہ ”اٹلی میں ایک شہر دوسرے شہر کے خلاف ہے، ایک گاﺅں دوسرے گاﺅں کیخلاف ہے، ایک خاندان دوسرے خاندان کے خلاف ہے اور ایک بھائی دوسرے بھائی کے خلاف ہے لہٰذا میں اٹلی کو محض ایک جغرافیہ ہی سمجھتا ہوں“ لہٰذا محمود خان کا وقتاً فوقتاً کالونیل لکھاریوں کا حوالہ دینا مزاح خیز بات ہے، اکثر کالونیل لکھاری اپنی لکھائی میں مقامی افراد کو نسلی حوالے سے بھی کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور خود کو اعلیٰ النسل سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اپنی حکمرانی کو جائز قرار دیتے ہیں، انہی سامراجی لکھاریوں نے یہاں کی مقامی آبادی اور اقوام سے بھی حقارت و دقیانوسی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ایک انگریز لکھاری نے پشتون یا پختون کے بارے میں نہایت ہی نازیبا الفاظ کا استعمال کیا ہے جو تحریر میں بیان کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ایک مرتبہ سینئر صحافی حامد میر نے ایک انگریز لکھاری کا حوالہ پختونوں کے بارے میں دیا تھا اس کے رد عمل میں خالد خان کاکڑ نے بلوچستان ہائیکورٹ میں کیس بھی دائر کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ یہ پشتونوں کی دل آزاری ہے، لہٰذا اگر محمود خان اچکزئی انگریز لکھاریوں کے حوالوں کو مستند سمجھتے ہیں تو یہ حوالے بھی تاریخ میں موجود ہیں، لہٰذا ان کو چاہیے کہ آئندہ کسی بھی کالونیل لکھاری کاحوالہ دینے سے پہلے وہ کالونیل کے ماہر تعلیم کی رائے کالونیل لکھاریوں کے بارے میں جان لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے