تربت تا بلیدہ روڈ: علاقائی ترقی کی جانب اہم پیش رفت

علاقائی ترقی کی جانب اہم پیش رفت
تحریر: چاکر بلوچ
ضلع کیچ میں ترقی کے ایک اہم سنگ میل کے طور پر تربت ٹو بلیدہ روڈ کا افتتاح گزشتہ 21 جنوری کو کیا گیا، جسے عوامی حلقوں میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ شاہراہ طویل عرصے سے علاقے کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھی، جس کی تکمیل نے بلیدہ زامران کو مرکزی شہر تربت سے مضبوط طور پر جوڑ دیا ہے۔ تربت سے بلیدہ زامران تک تعمیر ہونے والی یہ سڑک ایک ایسے علاقے میں بنائی گئی ہے جو قدرتی طور پر دشوار گزار اور پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے۔ ماضی میں اس راستے پر سفر نہ صرف وقت طلب بلکہ خطرناک بھی سمجھا جاتا تھا، خاص طور پر بارشوں اور ہنگامی حالات کے دوران۔ اس سڑک کی تعمیر سے تحصیل بلیدہ زامران کے عوام کو نقل و حمل کی ایک محفوظ، مختصر اور بہتر سہولت میسر آ گئی ہے، جس سے روزمرہ زندگی میں نمایاں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ اب لوگ کم وقت میں تربت پہنچ سکتے ہیں، جو پہلے ایک بڑا چیلنج تھا۔ علاقائی ترقی کے تناظر میں دیکھا جائے تو تربت ٹو بلیدہ روڈ سماجی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ دور افتادہ دیہات اور آبادیوں کو ضلعی ہیڈکوارٹر سے جوڑنا کسی بھی خطے کی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بلیدہ زامران زرعی لحاظ سے ایک اہم علاقہ ہے، جہاں کھجور، سبزیاں اور دیگر زرعی اجناس بڑی مقدار میں پیدا کی جاتی ہیں۔ اس سڑک کے ذریعے کسان اپنی پیداوار بآسانی تربت اور دیگر منڈیوں تک پہنچا سکیں گے، جس سے زرعی معیشت کو استحکام ملے گا۔ تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے بھی یہ منصوبہ نہایت اہم ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات میں کمی آنے سے کاروباری طبقے کو فائدہ ہوگا جبکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل بہتر ہونے سے عوام کو بھی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ تعلیمی میدان میں اس سڑک کی افادیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلیدہ زامران کے طلبہ و طالبات کو اب تربت میں قائم تعلیمی اداروں تک بہتر سفری سہولت حاصل ہوگی، جس سے شرح خواندگی میں بہتری آنے کی امید ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی تربت ٹو بلیدہ روڈ ایک اہم سہولت ثابت ہوگی۔ ہنگامی طبی حالات میں مریضوں کو تربت کے بڑے ہسپتالوں تک بروقت منتقل کرنا اب ممکن ہوگا، جو ماضی میں خراب راستوں کے باعث شدید مشکلات کا سبب بنتا تھا۔ دشوار گزار پہاڑی علاقے میں اس سڑک کی تعمیر انجینئرنگ اور منصوبہ بندی کے حوالے سے ایک قابلِ ذکر کامیابی ہے۔ یہ منصوبہ حکومتی اداروں کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے عزم کا عملی ثبوت ہے۔ اس شاہراہ کی بدولت بلیدہ زامران اور گرد و نواح کے علاقوں میں سماجی روابط میں اضافہ ہوگا۔ عوام کے درمیان میل جول بڑھے گا اور دور دراز آبادیاں بتدریج مرکزی دھارے میں شامل ہوں گی۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سڑک کی تکمیل سے نہ صرف سفر آسان ہوا ہے بلکہ علاقے میں ترقی اور خوشحالی کی نئی امیدیں بھی جنم لی ہیں۔ تاہم وہ اس امر پر بھی زور دیتے ہیں کہ سڑک کی بروقت دیکھ بھال اور معیار کو برقرار رکھا جائے۔ مجموعی طور پر تربت ٹو بلیدہ روڈ ضلع کیچ کی ترقی میں ایک اہم اضافہ ہے، جو بلیدہ زامران سمیت پورے خطے کی سماجی، معاشی اور معاشرتی بہتری میں معاون ثابت ہوگا اور آنے والے وقت میں یہ منصوبہ عوامی فلاح کا ایک مو¿ثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ یادرہے کہ اس سڑک کی تعمیر سے قبل بلیدہ زامران کی عوام کو تربت تک پہنچنے کیلئے 3سے 6 گھنٹوں تک سفر کرنا پڑتا تھا جو اب وقت کی بچت کے ساتھ 1 گھنٹے میں دیگر آسانیوں کا سبب بنے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے