حکومت بلوچستان اور سابق فاٹا کے طلبہ کے میڈیکل اسکالر شپس میں داخلوں کو یقینی بنائے، سینیٹر جان محمد بلیدی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر جان محمد بلیدی نے بلوچستان اور سابق فاٹا کے طلبہ کے میڈیکل اسکالرشپ پروگرام میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کے اپنے منظور شدہ پروگرام کے تحت منتخب طلبہ کو داخلوں سے محروم رکھا گیا تو یہ نہ صرف ان طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہوگی بلکہ پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کے اعتماد کو بھی شدید ٹھیس پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے تحت وفاقی حکومت کا اسکالرشپ پروگرام وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت بلوچستان اور سابق فاٹا جیسے پسماندہ علاقوں کے باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے چلایا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ایچ ای سی شفاف طریقہ کار، ٹیسٹ اور انٹرویوز کے بعد طلبہ کو ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی تعلیم کے لیے منتخب کرتا ہے۔ سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق اس سال یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے منتخب طلبہ کی فہرست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث بلوچستان اور سابق فاٹا کے 76 باصلاحیت طلبہ شدید اضطراب اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ یہ طلبہ خالصتاً میرٹ پر منتخب ہوتے ہیں اور ان کا مستقبل اس وقت داﺅ پر لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور سابق فاٹا کے نوجوان پہلے ہی تعلیمی مواقع کی کمی اور پسماندگی کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں اگر وفاقی سطح پر منظور شدہ اسکیموں پر بھی عملدرآمد نہ ہو تو اس سے احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوگا۔ سینیٹر جان محمد بلیدی نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں باضابطہ طور پر اٹھاتے ہوئے سینیٹ آف پاکستان میں اس مسئلے پر کالنگ اٹینشن نوٹس جمع کروا دیا ہے جس پر آئندہ سینیٹ اجلاس میں تفصیلی بحث کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے کی فوری جانچ اور حل کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے امور میں بھی باقاعدہ ایجنڈا جمع کروا دیا گیا ہے تاکہ متعلقہ اداروں کو طلب کر کے اس معاملے کا فوری اور منصفانہ حل نکالا جاسکے۔ سینیٹر جان محمد بلیدی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سفارش کردہ فہرست کے مطابق بلوچستان اور سابق فاٹا کے طلبہ کے داخلوں کو بلا تاخیر یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو بلوچستان اور سابق فاٹا کے سینکڑوں باصلاحیت طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا اور اس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں