بیرون ملک بیٹھے پاکستان مخالف عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں، علیحدگی پسند عناصر کیلئے آواز اٹھانے والوں سے بھی کوئی رعایت نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے 19ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں گڈ گورننس کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں، محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بھرتیاں سو فیصد میرٹ پر ہوئیں، 3200 بند اسکول فعال کیے گئے، سوشل میڈیا کے ذریعے بیرون ملک بیٹھے پاکستان مخالف عناصر نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں، بلوچستان سے متعلق غیر مستند تاریخی حوالوں سے نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کی جا رہی ہے، نوجوان مستند تاریخ سے آگاہی حاصل کرکے سچ اور جھوٹ میں واضح فرق کریں، نوجوان پاکستان کی امید ہیں، سوشل میڈیا سمیت ہر محاذ پر ریاست کا دفاع کریں، تشدد پر مبنی کارروائیوں اور رویوں کا غیر متوازن ترقی سے کوئی تعلق نہیں، ریاست مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے، بندوق کے زور پر کوئی نظریہ مسلط نہیں کیا جا سکتا، آئین کا آرٹیکل 5 ریاست سے غیر مشروط وفاداری کا درس دیتا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم متاثرہ فریق ہیں، ریاست کے ساتھ کھڑا تھا اور کھڑا رہوں گا، ماضی میں احتجاج کے نام پر کئی کئی دن سڑکیں بند رہتی تھیں، اب بلوچستان میں کوئی شاہراہ احتجاج کے نام پر غیر معینہ مدت تک بند نہیں ہوتی، جو آئین فرد کو احتجاج کا حق دیتا ہے وہ عام آدمی کے حقوق کا بھی محافظ ہے، علیحدگی پسند عناصر کیلئے آواز اٹھانے والوں سے بھی کوئی رعایت نہیں ہوگی، مسنگ پرسنز کے معاملے کو ریاست کے خلاف پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال کیا گیا، موثر قانون سازی کے ذریعے مسنگ پرسنز کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں