پاکستان اور ایران کے درمیان راہداری نظام بحال کیا جائے، گوادر کے رہائشیوں کا مطالبہ

گوادر (بیورو رپورٹ) گوادر انتظامیہ کی جانب سے ایران اور پاکستان کے درمیان جاری راہداری کے عمل کو بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں کے رہائشی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ یہ راہداری ایک قانونی دستاویز کی حیثیت رکھتی تھی، جس کے تحت بارڈر کے دونوں جانب آباد خاندانوں کو ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے اور آمدورفت میں سہولت حاصل تھی۔ راہداری کے ذریعے شہری ڈی سی آفس میں قانونی طریقہ کار مکمل کرکے ضمانت کی بنیاد پر سرحد پار آ جا سکتے تھے۔ اس سہولت سے وہ افراد بھی مستفید ہوتے تھے جن کے رشتہ دار سرحد کے دونوں اطراف مقیم ہیں، اور وہ شادی بیاہ، وفات یا دیگر سماجی تقریبات میں باآسانی شرکت کر لیتے تھے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس عمل کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اور لوگوں کو اپنے عزیز و اقارب سے رابطہ رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے میر کاروان کے سربراہ، امیر ارشد کلمتی نے جی او سی 44 ڈویژن گوادر، صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور کور کمانڈر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنگ بندی کے بعد گوادر بارڈر کو دوبارہ کھولنے اور راہداری کے عمل کو بحال کرنے کی اجازت دی جائے، تاکہ سرحدی عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں