حکومتی کارروائی مسترد کرتے ہیں، دینی مدارس کی جانب بڑھنے والے ہاتھ کو کاٹ کر رکھ دیں گے، جمعیت پنجگور

پنجگور (نامہ نگار) پنجگور جمعیت علماءاسلام کی ضلعی کابینہ، تحصیل کابینہ اور سینئر رہنماﺅں کا مشترکہ اجلاس ضلعی امیر حافظ محمد اعظم بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلعی و تحصیل کابینہ اور سینئر رہنماﺅں نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں جمعیت علماءاسلام کے ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالحلیم نے ایجنڈا پیش کرتے ہوئے کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس کا ایجنڈا دینی مدارس کے خلاف حکومت کی کارروائی اور بےجا مدخلت تھا۔ اس موقع پر شرکاءنے حکومت کی جانب سے دینی مدارس کے خلاف ایکشن اور بے جا مداخلت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے فیصلے کو مستر کردیا اور یہ اعلان کیا کہ صوبائی جماعت کی جانب سے بلائے گئے 2 مئی کو مجلس شوریٰ کے اجلاس میں جو فیصلہ سامنے آئے گا اس پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس سے جمعیت علماءاسلام کے ضلعی امیر حافظ محمد اعظم، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالحلیم، مرکزی کونسل کے رکن حاجی عبدالعزیز بلوچ، خطیب مکران مولانا علی احمد اور دیگر علماءکرام نے خطاب کیا۔ حافظ محمد اعظم بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت کی جانب سے دینی مدارس کیخلاف کارروائی اور فیصلے کو جوتے کے نوک پر رکھتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران مغرب اور اپنے آقاﺅں کو خوش کرنے کیلئے علماءکرام اور دینی مدارس کو اپنے نشانے پر رکھا ہے لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں کھبی کامیاب نہیں ہوں گے، ہم اعلان کرتے ہیں کہ دینی مدارس کی جانب بڑھنے والے ہاتھ کو کاٹ کر رکھ دیں گے۔ انہوں نے کہا پنجگور ایک مذہبی اور سیاسی زون ہے شہر کے چاروں اطراف دینی مدارس کا حصار ہے جہاں سینکڑوں علماءکرام خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ہزاروں طلباءوطالبات دینی علوم کے عظیم زیور سے آراستہ ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجگور کے ضلعی انتظامیہ دینی مدارس کے خلاف کارروائی کا سلسلہ فوری طور پر روکے اور مدارس کے سربراہان کو تنگ کرنا بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ پنجگور میں امن وامان کی صورتحال ماضی کی نسبت کچھ بہتر ہے لیکن اس کو مزید بہتر بناکر عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجگور میں منشیات کیخلاف پولیس کی کارروائی قابل تحسین ہے، ایسے اقدامات کی ہم حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ہر اچھے اقدامات میں انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پنجگور میں شراب خانے کھولنے کیلئے لائسنس کا اجراءکیا گیا جوکہ کسی صورت ایک مسلم معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں اور اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس سلسلے میں متعلقہ ادارے کو عوام اور جمعیت علماءاسلام کی جانب سے اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں