تربت ،حیات بلوچ کےقتل اور بدامنی کے خلاف زہری میں احتجاجی ریلی
زہری (نامہ نگار)جمعیت علماءاسلام زہری کے زیر اہتمام علاقے میں حالیہ بد امنی اغواء برائے تاوان اور تربت مین قتل ہونے والے طالب علم حیات بلوچ کے قتل کے خلاف ایک پر امن ریلی نکالی گئی جو مختلف شاہرواں سے ہوتے ہوئے مین چوک پہنچ کر احتجاجی جلسے کی شکل اختیار کر لی جلسے میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی احتجاجی جلسے سے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری وڈیرہ غلام سرور موسیانی،تحصیل امیر جے یو آئی میجر محمد رحیم ،مولانا عبدالغنی،مولانا عبدالحفیظ نے خطاب کیا مقررین نے کہا کے بلوچستان میں کشت و خون بہت ہوا اب ختم ہونا چاہیے حیات بلوچ کی قتل نے کربلا کی یاد تازہ کر دی ہے ،مقررین نے تحصیل انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہویے کہا کے ضلع خضدار کی انتظامیہ بلخوص زہری کی انتظامیہ امن و امان برقرار رکھنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے آئے روز ٹارگٹ کلنگ معمول بن چکی اغوائے برائے تاوان کے لیے لوگ اٹھائے جا رہے ہیں انتطامیہ کوئی اقدامات نہیں اٹھا رہی ہے چند دن قبل تاوان کی غرض سے اٹھانے والے مغوی کے لیے رابطے کی جا رہی ہے ۔لیکن انتظامیہ محض یہ کہے کر خود کو بری الزمہ قرار دے رہا ہے کے کبھی کدھر مغوی کی اطلاع ہے کبھی کدھر۔دو دن پہلے لیویز اہلکار کو سرے بازار قتل کی گیا پے در پے بد امنی کی واقعات سے شدید خوف اور مایوسی کا شکار ہو چکی ہے لوگ یہاں ایک ایماندار تحصیل دار تھا جو امن کے لیے حتل وصی کوشش کر رہی تھی اس کو ٹرانفسر کیا گیا نجانے حکمران کیوں علاقے کو آگ اور خون کی طرف لے جانے چاہتے ہیں انہوں نے کہا کے ہمیں بہت امید تھی کے طفیل بلوچ یہاں عوام کی بھلائی کے لیے اقدامات کرینگے لیکن افسوس اپنی تعیناتی سے لیکر آج تک زہری کا دورہ نہیں کیا ،مقررین نے وزیر داخلہ کمشنر قلات سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کے مخلص ایمانداز سابقہ تحصیلدار منیر احمد مغل کو فوری پوسٹنگ کیا جائے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کئے جائے


