سانحہ کرائسٹ چرچ ،سماعت دوسرے روز بھی جاری رہی، ملزم متاثرین کے بیان کے دور ان طنزاً مسکراتا رہا

کرائسٹ چرچ :سانحہ کرائسٹ چرچ سے متعلق کیس کی سماعت منگل کو بھی کرائسٹ چرچ کی عدالت میں جاری رہی ، سماعت کے دوسرے روز بھی متاثرین نے ویڈیو اور تحریری بیانات عدالت کے سامنے ریکارڈ کروائے ،شہداء کے کئی لواحقین نے اپنے بیانات میں ملزم سے نفرت کا اظہار کیا ، ملزم متاثرین کے بیان کے دور ان طنزاً مسکراتا رہا ۔ سماعت کے دور ان مسجد النور میں شہید ہونے والے پاکستانی نعیم راشد کی بیوہ عنبرین راشد کا بیان ریکارڈ کیا گیا جس میں عنبرین نے ملزم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ تم ہارے ہوئے ہو جس پر ملزم طنزاًمسکرا پڑا ۔ انہوںنے کہاکہ مسجد پر حملے سے ہمیں ڈرانے کی کوشش کی لیکن ملزم کے اس عمل نے ہمیں مزید مضبوط بنا دیا اور ہم معاشرے میں اپنا کر دارادا کرتے رہیں گے ۔ عنبرین راشد نے کہاکہ ان کے شوہر نے کبھی بھی کسی سے نسل اور مذہب کی وجہ سے امتیاز ی سلوک نہیں کیا اسے اپنے مذہب کی وجہ سے شہید کیا گیا ۔انہوںنے کہاکہ نعیم دوسروں کو بچانے کی کوشش میں شہید ہوا ہے وہ ہمیشہ ایسے ہی بہادری کے کام کر تا تھا ۔ انہوںنے کہاکہ میرے بیٹوں کو اپنے باپ کے اس کارنامے پر ہمیشہ فخر رہے گا اس کی موت اس کی زندگی کا عکس ہے ۔ انہوںنے کہاکہ میرے شوہر اور میرے بیٹے نے لوگوں کی بھلائی ، اللہ اور انسانیت سے اپنی محبت کیلئے جان دی ۔ انہوںنے اپنے بیان میں کہاکہ ملزم کو کبھی بھی اپنی زندگی میں خوشی نہیں ملے گی وہ اسے بزدل کہتی ہیں جس کی واحد طاقت ہتھیار ہو ۔واضح رہے کہ نعیم راشد کی بہادری پر حکومت پاکستان نے ان کو بعد از مرگ تمغہ شجاعت سے نوازا تھا ۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے میر واعظ وزیر ی نے ملزم کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے جسٹس کیمرون سے کہا وہ اپنا بیان نہیں پڑھیں گے ، میں نے گزشتہ روز ملزم کو عدالت میں دیکھنے اور سمری آف فیکٹس رپورٹ پڑھنے کے بعد اپنا بیان نہ پڑھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ابھی تک ملزم کو اپنے کئے پر کوئی شرم اور پچھتاوا نہیں ہے میں اپنا بیان نہ پڑھ کر ملزم کو دکھاناچاہتا ہوں کہ میں کتنی تکلیف بر دادشت کرونگا ۔انہوںنے ملزم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ اس کے عمل سے دنیا کو پتہ چلا کہ حقیقی دہشتگرد کون ہے ؟ہم مسلمان ہیں ہم دہشتگرد نہیں ہیں ۔انہوںنے کہاکہ دہشتگردی کا کوئی مذہب ، نسل اور رنگ نہیں ہوتا ،آپ ہارے ہو اور ہم فاتح ہیں ۔ظہور درویش جن کے بھائی کامل درویش شہید ہوئے تھے نے اپنے بیان سے پہلے ملزم سے براہ راست بات کرتے ہوئے اسے بزدل اور چوہا کہا ۔ انہوںنے ملزم سے کہاکہ آپ نے جو کچھ کیا ہے اس کا بدلہ ادا کر ینگے ۔ انہوںنے ملزم سے کہاکہ آپ کیلئے مناسب سزا سزائے موت ہے کیونکہ وہ انسانوں کے ساتھ سلوک یا اس کا فیصلہ کر نے کے اہل نہیں ہیں۔فریشہ رزاق جن کے والد اشرف علی شہید ہوئے تھے نے ملزم کی طرف سے متوجہ ہوتے ہوئے کہاکہ آپ کو کوئی نہیں چاہتا ،آپ دن کی روشنی نہیں دیکھ پائیں گے ۔ ایک اور متاثرہ شخص حازم محمد نے جسٹس کیمرون سے مخاطب ہوئے کہاکہ ملزم کو ممکنہ حد سے زیادہ سزا دی جائے لہذا وہ کبھی سورج نہ دیکھ سکے اس شخص کو ہمیشہ جیل میں رہنا چاہیے ۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے شخص نیتھن سمتھ جو حملے کے دور ان مسجد میںموجود تھا نے ملزم سے کہاکہ میں سفید فام ، مسلمان اور قابل فخر ہوں آپ نے جو کچھ کیا وہ پوری دنیا کے یورپی لوگوں کیلئے بڑی شرمندگی کا باعث ہے جب سمتھ نے ملزم سے کہاکہ اس کے پاس کافی وقت ہوگا اور اسے اس وقت کو قرآن مجید کا مطالعہ کر نے میں صرف کر نا چاہیے جس پر ملزم طنزاًمسکرایا ۔اس کے علاوہ بھی شہداء کے لواحقین نے بار ی باری اپنے تاثرات عدالت کے سامنے پیش کئے مقدمے کی سماعت (آج)بدھ کو بھی جاری رہے گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں