کوشش ہے کہ پاکستان کو مستقبل میں افغان سرزمین پر فضائی حملے کرنے سے باز رکھا جائے، ملا یعقوب
ویب ڈیسک : روس کے دارالحکومت ماسکو کے دورے کے بعد طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد نے کہا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ پاکستان کو مستقبل میں افغان سرزمین پر فضائی حملے کرنے سے باز رکھا جائے۔ملا یعقوب نے ماسکو سے واپسی پر کابل ایئرپورٹ پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ آپ نے دیکھا کہ چند ماہ قبل وہ (پاکستان) افغانستان کے ہر حصے میں بمباری کرنے کی جرات رکھتے تھے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مستقبل قریب میں دوبارہ ایسا کرنے کی جرات نہ کرے۔
واضح رہے کہ ملا یعقوب رواں ہفتے منگل کے روز ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورم میں شرکت کے لیے ماسکو پہنچے تھے، جس میں تقریباً 100 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ایک معتبر ذریعے نے اس وقت بی بی سی کو بتایا تھا کہ ملا محمد یعقوب مجاہد روس کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ وہ ان کی حکومت کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرے۔ذریعے کے مطابق یہ معاملہ پہلے ہی ماسکو کے ساتھ زیرِ بحث تھا اور وزیر دفاع کے حالیہ دورے کے دوران روس کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانیوں پر عملی پیش رفت ہوئی۔ ذرائع نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا تھا کہ فریقوں کے درمیان ایک ایسا معاہدہ طے پایا جس میں فضائی دفاعی آلات کے علاوہ زمینی فوجی ساز و سامان اور طالبان حکومت کی افواج کی تربیت بھی شامل ہے۔
تاہم افغانستان واپسی پر ملا یعقوب نے روس کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے بارے میں واضح کیا کہ یہ صرف روسی فوجی سازوسامان اور ہتھیاروں کی دیکھ بھال کا معاہدہ ہے جو اس وقت افغانستان کے پاس ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’یہ فوجی تکنیکی معاہدہ ہے جس کو ان معاملات کے ماہرین سمجھتے ہیں۔ یہ کوئی دفاعی یا سکیورٹی معاہدہ نہیں، جس سے کسی کو تشویش ہونی چاہیے۔ یہ صرف اور صرف افغانستان کے فائدے کے لیے ہو گا۔‘طالبان حکومت کے وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’فوجی شعبے میں زیادہ تر روسی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ ہیلی کاپٹروں، آلات اور ہتھیاروں کی مختلف شعبوں میں مرمت اور ترقی کی ضرورت ہے۔ ہم اس شعبے میں ان ممالک کے ساتھ معاہدے کرنے پر مجبور ہیں جن کی اپنی پیداواری سہولیات ہیں۔ ساتھ ہی ہم نے روس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے تاکہ ہم یہاں موجود ہتھیاروں کا بہتر استعمال کر سکیں۔‘
افغانستان کے فضائی دفاعی نظام کے ڈھانچے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس پر بعد میں بات کی جائے گی کہ ہمارے پاس کون سا دفاعی نظام ہونا چاہیے اور ہمیں اسے کن ممالک سے درآمد کرنا چاہیے۔ شاید اس پر مزید بات چیت کی ضرورت ہو گی۔‘واضح رہے کہ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان حکومت کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں اور اس دوران متعدد اعلیٰ سطحی وفود نے روس کے دورے کیے۔ملا محمد یعقوب مجاہد جب منگل کے روز بین الاقوامی سکیورٹی فورم میں شرکت کے لیے ماسکو پہنچے تو اس وقت طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس دورے کی تیاریاں پہلے سے جاری تھیں اور ایک وفد پیشگی طور پر ماسکو بھی روانہ کیا گیا تھا۔ملا یعقوب مجاہد نے روسی سلامتی کونسل کے مشیر سرگئی شوئیگو سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’روس خطے اور دنیا میں ایک اہم ملک ہے اور ہمارے کے لیے روس کے ساتھ تعلقات خاص اہمیت رکھتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ تعلقات مزید مضبوط اور وسیع ہوں۔‘


