جب اپوزیشن نے بلز کی تحریک کو ہی مسترد کردیا تھا تو سیکنڈ ریڈنگ کس رول کے تحت ہوئی؟رضا ربانی

اسلام آباد ۛاپوزیشن نے سینیٹ میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق انسدادِ منی لانڈرنگ اور آئی سی ٹی وقف بلز کی منظوری رکوانے کے حکومتی الزامات سامنے آنے کے بعد ان بلز کے سینیٹ سے مسترد ہونے پر سوالات اٹھا دئیے سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹر میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ جب اپوزیشن نے بلز کی تحریک کو ہی مسترد کردیا تھا تو سیکنڈ ریڈنگ کس رول کے تحت ہوئی؟ چیئرمین سینیٹ نے رولنگ دی ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے بلوں پر غو رکرنے کی اجازت دی،بلوں کو مسترد کرنا آئین اور قواعد کے روح کے مطابق تھا،آئینی حقوق کواستعمال کرنے کے بعددونوں بلوں کوموجود اراکین کی جانب سے مسترد کیا گیا۔ بدھ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا۔ سابق چیئر مین سینٹ سینیٹر رضاربانی نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ گزشتہ روز ایوان میں رولز کی خلاف ورزی ہوئی،جب اپوزیشن نے بل کی تحریک کو ہی مسترد کردیا تھا تو سیکنڈ ریڈنگ کس رول کے تخت ہوئی؟ اگر تحریک مسترد ہوگئی تھی تو بل کیسے پیش ہوا؟ ابھی معاملہ سینیٹ تک محدود ہے لہذا اس کو قومی اسمبلی یا مشترکہ اجلاس کے لیے ریفر نہ کیا جائے ۔ چیئر مین سینٹ نے کہاکہ اس حوالے سے میں تفصیلی رولنگ دوں گا۔بعد ازاں چیئرمین سینیٹ نے رولنگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ قومی مفادات کے ساتھ منسلک قانون سازی پر غور کا شفاف موقع دینے کی غرض سے چیئرمین سینیٹ کے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے بلوں پر غو رکرنے کی اجازت دی۔ آئینی حقوق کواستعمال کرنے کے بعددونوں بلوں کوموجود اراکین کی جانب سے مسترد کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں