حکومت پیٹرول بحران کا فوری خاتمہ، لاک ڈاﺅن کا نوٹیفکیشن واپس لے، مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان

کوئٹہ (ویب ڈیسک) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے کوئٹہ شہر میں پیٹرول کی شدید قلت اور لاک ڈاﺅن کے حالیہ نوٹیفکیشن کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے تاجروں اور عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی قرار دے دیا ہے۔ ایک ہنگامی بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک جانب پورا شہر پیٹرول کے سنگین بحران سے دوچار ہے جبکہ دوسری جانب کاروباری سرگرمیوں پر مزید پابندیاں عائد کرنا تاجروں اور عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔ کوئٹہ شہر کے بیشتر پیٹرول پمپس بند پڑے ہیں جبکہ جو چند پمپس کھلے ہیں وہاں شہریوں کو شدید گرمی اور دشوار حالات میں طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے عوام خوار ہو کر رہ گئے ہیں لیکن ضلعی انتظامیہ اس بحران پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے، پیٹرول کی یہ قلت انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کاشف حیدری کا مزید کہنا تھا کہ کوئٹہ پہلے ہی معاشی مشکلات، کمر توڑ مہنگائی، بدامنی اور کاروباری جمود کا شکار ہے، ایسے سنگین حالات میں لاک ڈاﺅن کا نیا نوٹیفکیشن تاجروں، دکانداروں، مزدوروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے جسے تاجر برادری کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکام عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں جہاں پیٹرول نایاب، سڑکیں بند اور کاروباری سرگرمیاں پہلے ہی مفلوج ہیں، وہاں لاک ڈاﺅن جیسے فیصلے زمینی حقائق کے سراسر منافی ہیں۔ مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان حکومت سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ کوئٹہ شہر میں جاری پیٹرول کے سنگین بحران کے فوری خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں اور تمام پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی بلا تعطل اور باقاعدہ فراہمی کو یقینی بنا کر شہریوں کو اس شدید گرمی اور خواری سے نجات دلائی جائے۔ تنظیم کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ کاروباری سرگرمیوں پر پابندیوں اور لاک ڈاﺅن کے حالیہ نوٹیفکیشن پر فوری طور پر نظرثانی کر کے اسے واپس لیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں