بلوچستان اسمبلی کا اجلاس، مالی سال 2026 -27 کے بجٹ پر عام بحث جاری، فنانس بل 2026 متفقہ طور پر منظور

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان اسمبلی کے اہم اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے صوبائی و وفاقی بجٹ پر عام بحث کے دوران سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا، جہاں نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفاقی اور صوبائی بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ دوسری جانب، وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں مختلف ٹی وی چینلوں کے بیورو دفاتر بند کرنے کے فیصلے کے خلاف سخت ترین مقف اختیار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ جمعرات کو ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ کی زیر صدارت 40 منٹ کی تاخیر سے شروع ہونے والے اس اہم اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے "بلوچستان مالیاتی مسودہ قانون(فنانس بل) 2026” ایوان میں پیش کیا، جسے اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا، جس کے بعد اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کو سخت الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں بند کیے گئے تمام ٹی وی چینلوں کے بیورو دفاتر کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کی آواز کو کسی صورت دبانے نہیں دیا جائے گا اور میڈیا ورکرز کو بے روزگار ہونے سے بچانے کے لیے وہ خود اپوزیشن اور صحافیوں کے وفد کے ساتھ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔ اس دوران بلوچستان یونین آف جرنلسٹس(بی یو جے) نے صحافیوں کی جبری برطرفیوں کے خلاف ایوان کی پریس گیلری سے بائیکاٹ اور شدید احتجاج کیا، تاہم صوبائی وزرا کے وفد کی جانب سے عملی اقدامات کی یقین دہانی کے بعد صحافیوں نے اپنا احتجاج ختم کر کے دوبارہ اجلاس کی میڈیا کوریج شروع کی۔بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ میں بلوچستان کے لیے ایک بھی نئی اسکیم شامل نہ کرنا صوبے کے ساتھ زیادتی ہے، انہوں نے گڈ گورننس اور امن و امان کی بحالی کو ناگزیر قرار دیا۔ اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے بھی وفاق پر ناانصافی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران بارڈر کی بندش سے لاکھوں مقامی افراد کا چولہا ٹھنڈا ہو چکا ہے، لہذا وہاں قانونی تجارت فوری بحال کی جائے۔ اگرچہ صوبائی وزرا راحیلہ حمید درانی، میر ضیا اللہ لانگو، نور محمد دومڑ، علی مدد جتک، فیصل جمالی اور دستگیر بادینی نے صوبائی بجٹ کو متوازن قرار دیتے ہوئے دفاع کیا، لیکن ساتھ ہی اپنے اضلاع کے لیے مزید فنڈز کا مطالبہ بھی پبلک کر دیا۔ رکن اسمبلی زمرک خان اچکزئی نے وفاقی بجٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اب ایک پیج پر آ کر مشترکہ آواز اٹھانی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں