قوموں، برادریوں اور اقلیتوں کو تقسیم کرکے بلوچستان کے بحرانوں میں اضافہ کیا گیا، لشکری رئیسانی

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر سیاستدان اور سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ قومی وطن میں آباد قوموں، برادریوں اور مذہبی اقلیتوں کو مبینہ سازش کے تحت طبقاتی، قومی، مذہبی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا، جس سے بلوچستان کے بحرانوں میں مزید اضافہ ہوا۔ بحرانوں کے خاتمے اور سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کو قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نوابزادہ لشکری رئیسانی نے تنظیم نسل نو ہزارہ کی لائبریری کے لیے 150 کتابیں بطور تحفہ دینے کا اعلان بھی کیا۔ لشکری رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کو آئین کے تحت حاصل شہری حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے اور مبینہ طور پر جعلی سیاسی قیادت تشکیل دے کر عوام پر مسلط کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ ثقافت میں لوگ ایک دوسرے کو طعنہ نہیں دیتے اور نہ ہی ریاست لوگوں کو بندوق اٹھانے کا کہتی ہے اگر ملک میں مو¿ثر عدالتی نظام موجود ہوتا تو انہیں بندوق اٹھانے کی بات نہ کی جاتی، جبکہ ریاستی نظام مو¿ثر ہوتا تو قاتلوں کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جاتی۔ واقعے کے ماسٹر مائنڈ کو تین مرتبہ مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم ان کے مطابق بلوچستان میں ایک نہیں بلکہ ہزاروں افراد قتل یا لاپتہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں بندوق دینے کے بجائے بلوچستان میں دہائیوں سے جاری فرقہ واریت، مبینہ جعلی قبائلیت اور دہشت گردی کے نام پر پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی کمیشن قائم کیا جائے۔ بلوچستان کے عوام کو ان کے قومی، انسانی اور سماجی حقوق اور قومی اختیار سے محروم کرنے اور صوبے کے وسائل پر اختیار حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر جعلی حکومت کے ذریعے قانون سازی کی گئی، جس کے خلاف وہ سیاسی اور آئینی مزاحمت کر رہے ہیں۔ پارٹی سندھ کی تقسیم کو قبول نہیں کرتی، تاہم بلوچستان میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی صوبائی حکومت پر صوبے کی تقسیم کی حمایت کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول اس صورتحال کا نتیجہ بدامنی کی صورت میں بلوچستان کے عوام کو بھگتنا پڑے گا، جبکہ اس کا فائدہ مبینہ طور پر مقتدر حلقوں اور مصنوعی قیادت کو پہنچے گا۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے عوام کو ڈیلیور نہ کرنے اور اپنے منشور پر عملدرآمد نہ کرنے کے باعث سیاسی کارکن سیاسی عمل سے لاتعلق ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں سیاسی خلا مزید بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے سیاسی کارکنوں، موجودہ حالات کے باعث گھٹن محسوس کرنے والے عمائدین، طلبہ، وکلا اور خواتین سے اپیل کی کہ وہ اپنے انفرادی، گروہی، طبقاتی اور اجتماعی کردار کو بروئے کار لائیں اور بلوچستان کی سرزمین کو امن اور بھائی چارے کا گہوارہ بنانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں، بلوچستان میں بسنے والے تمام افراد کو باعزت اور پ±رامن زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے، اس مقصد کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگاطلبہ اور اساتذہ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ اپنا سماجی کردار ادا کریں تاکہ معاشرہ متحد ہو اور ایک مشترکہ قومی جدوجہد کے ذریعے سیاسی عمل میں مو¿ثر طور پر حصہ لیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں