بلوچستان اسمبلی میں معذور افراد کے حقوق سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر جبکہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا قرارداد اکثریت سے منظور
کوئٹہ (این این آئی ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پیٹرولیم لیوی ختم کرنے ،قرارداد میں بلوچستان معذور افراد کے حقوق ایکٹ 2017 کے تحت ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹے پر مو¿ثر عملدرآمد یقینی بنانے ،ضلع واشک میں ٹراما سینٹر کے قیام کی قرارداد منظور کرلی گئیں ، سی پیک منصوبوں کی تفصیلات ، ضلع واشک میں محکمہ ایکسائز ینڈ ٹیکسیشن کا دفتر قائم کرنے سے متعلق الگ الگ توجہ دلاﺅ نوٹسز نمٹا دئےے گئے ۔ جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میںرکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے سی پیک کے تحت بلوچستان میں جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں سے متعلق توجہ دلاو¿ نوٹس پیش کیا۔انہوں نے استفسار کیا کہ سی پیک کے تحت بلوچستان میں مجموعی طور پر کتنے منصوبے شروع کیے گئے، ان میں سے کتنے مکمل ہوچکے ہیں اور ہر مکمل منصوبے کا شعبہ، لاگت، آغاز اور تکمیل کی تاریخ کیا ہے۔توجہ دلاو¿ نوٹس میں بلوچستان میں سی پیک کے دوسرے مرحلے (فیز ٹو) کے تحت شامل منصوبوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں اور پوچھا گیا کہ یہ منصوبے کب تک مکمل ہوں گے۔بعدازاں توجہ دلا ﺅ نوٹس کو نمٹا دیا گیا ۔ اجلاس میں جمعیت علماءاسلام کے رکن میر زابد علی ریکی نے ضلع واشک میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا دفتر فعال نہ ہونے کی وجوہات سے متعلق توجہ دلا ﺅ نوٹس پیش کیا جسے حکومتی جواب کے بعد نمٹا دیا گیا ۔اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ ویمن پارلیمانی کاکس کی اراکی کی جانب سے بصارت اور سماعت سے محروم بچوں کو تعلیمی سہولیات اور فنی تربیت فراہم کرنے سے متعلق قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان معذور افراد کے حقوق ایکٹ 2017 نافذ ہونے کے باوجود بصارت اور سماعت سے محروم بچے تاحال مطلوبہ تعلیمی اور فنی سہولیات سے محروم ہیں، جس کے باعث ان کی تعلیم، تربیت اور عملی زندگی میں شمولیت متاثر ہورہی ہے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ایسے بچوں کے لیے بریل، معاون ٹیکنالوجی اور نقل و حرکت کی تربیت سمیت جدید تعلیمی سہولیات سرکاری پروگراموں کے ذریعے فراہم کی جائیں۔اس میں اساتذہ کی تربیت کے موجودہ نظام میں بریل سے متعلق عملی تربیت شامل کرنے اور بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی ٹیوٹا) کے ذریعے بصارت اور سماعت سے محروم نوجوانوں کے لیے کمپیوٹر لٹریسی اور فنی تربیتی پروگرام شروع کرنے کے اقدامات کرنے پر بھی زور دیا گیا۔قرارداد میں بلوچستان معذور افراد کے حقوق ایکٹ 2017 کے تحت ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹے پر مو¿ثر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اجلاس میں حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمان بلوچ قرارداد پیش کرتے ہو ئے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے تنازع کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی اصل قیمت کے علاوہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر مدات میں رقوم وصول کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی اصل قیمت کسٹم ڈیوٹی سمیت 238 روپے 70 پیسے فی لیٹر بنتی ہے، جبکہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں 80 روپے، ماحولیاتی لیوی کے تحت 5 روپے اور مختلف مارجنز کی مد میں 25 روپے 30 پیسے فی لیٹر وصول کیے جارہے ہیں۔قرارداد میں مو¿قف اختیار کیا گیا کہ ان اضافی وصولیوں سے پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا۔ اس میں پیٹرولیم لیوی اور دیگر مدات میں وصولیاں بند کرنے، مفت پیٹرول کی فراہمی ختم یا محدود کرنے اور مالی وسائل کے مو¿ثر و شفاف استعمال کے لیے غیر ضروری اخراجات اور مراعات کا ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت وصول کرتی اور استعمال کرتی ہے، جبکہ خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث وفاقی حکومت کو ان وسائل کی بہت ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کی بچت سے بلوچستان میں این 25 شاہراہ کا منصوبہ بھی بن رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ ذاتی طور پر اس قرارداد کی حمایت نہیں کرتے، تاہم ارکان اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اگر حالات معمول کے مطابق ہوتے اور جنگ کی صورتحال نہ ہوتی تو وہ قرارداد کی حمایت کرتے۔اجلاس کے دوران حکومتی ارکان نے ملکی حالات کے تناظر میں مولانا ہدایت الرحمان بلوچ سے قرارداد واپس لینے کی درخواست کی، جبکہ اپوزیشن ارکان نے قرارداد کی حمایت میں اظہار خیال کیا۔ بعدازاں ایوان میں رائے شماری کے بعد پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصولیاں بند کرنے سے متعلق قرارداد منظور کرلی گئی۔اجلاس میں جمعیت علما ءاسلام کے رکن میر زابد علی ریکی نے ضلع واشک میں ٹراما سینٹرکے قیام سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضلع واشک میں ٹریفک حادثات اور دیگر ہنگامی طبی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی ٹراما سینٹر موجود نہیں ہے اس بنیادی سہولت کے فقدان کے باعث شدید زخمیوں اور دیگر مریضوں کو فوری طورپر طبی امداد فراہم نہیں ہو پاتی اور نہیں طویل مسافت طے کر کے کوئی منتقل کیا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے متعدد مریض راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ ضلع واشک میں ٹراما سینٹر کا قیام کایقینی بنائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات میسر آسکے، ایوان نے قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا ۔ اجلاس میں رکن اسمبلی سید ظفر آغا کی قرارداد محرک کی عدم موجودگی کی بناءپر ڈیفر کردی گئی ۔


