پشتون بلوچ علاقوں میں برابری کی بنیاد پر پرائمری تعلیم سے لیکر اعلیٰ تعلیم کے یونیورسٹیوں کے قیام پر بھرپور توجہ دینی چاہیے، خوشحال خان کاکڑ

ژوب(این این آئی)پشتونخوانیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین ممبر قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ وطن کے طلباء وطالبات نے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں انتہائی محنت سے کام لیکر علم کے حصول پر بھرپور توجہ دینی ہوگی اور معیاری تعلیم ہی کے ذریعے ہر شعبہ زندگی میں اعلیٰ ماہرین پیدا ہوسکتے ہیں جو قوم کا اثاثہ ثابت ہونگے ہر ڈویژن کے مرکز میں اعلیٰ یونیورسٹی کا قیام اور گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ڑوب کو فوری طور پر پوسٹ گریجویٹ کالج کا درجہ دینا انتہائی ضروری ہے جس کیلئے ہر فورم پر رابطے کرکے آواز بلند کرینگے، طلباء وطالبات کی سیاسی،ثقافتی اور غیر نصابی سرگرمیوں پر پابندی بلاجواز اور نوجوان تعلیم یافتہ طبقے کے صلاحیتوں کو زنگ آلود کرنے کے مترادف ہے پشتونخوا ایس او نے ملی شہید عثمان خان کاکڑکی قیادت میں اس وقت سے لیکر اب تک تعلیمی اداروں کے قیام، تعلیم کو عام کرنے، معیاری تعلیم کی فراہمی اور تعلیمی اداروں کے مسائل حل کرنے کیلئے طویل اور صبر ازما جدوجہد کی ہے وہ ڈگری کالج ڑوب میں طلباء کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر پشتونخواایس او کے زونل مرستیال سیکرٹری ایمل ساروان نے بھی خطاب کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین اور پارٹی وفد کو کالج کا دورہ کرنے پر خوش آمدید کہا، چیئرمین کے دورے کے دوران پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمدرضا اور دوسرے رہنما بھی ساتھ تھے کالج پہنچنے پر کالج کے پرنسپل اور اساتذہ نے پارٹی چیئرمین ایم این اے خوشحال خان کاکڑ اور پارٹی وفد کا استقبال کیا اور چائے پارٹی کے ذریعے ا±ن کی مہمان نوازی کی اور پارٹی چیئرمین ایم این اے خوشحال خان کاکڑ کو کالج کے درپیش مسائل و مشکلات سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا، جبکہ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے مسائل کے حل کیلئے متعلقہ حکام سے رابطہ کرنے اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ ڈگری کالج ڑوب کو پوسٹ گریجویٹ کا درجہ دینا اشد ضروری ہے بلکہ لاتعداد فیڈر سکولوں کی موجودگی کے باعث سالانہ ضلع ڑوب و ضلع شیرانی سے سینکڑوں طلبہ فارغ ہورہے ہیں اور اس بدترین مہنگائی اور بے روزگاری کے دور میں دور دراز شہروں میں غریب طلباءکیلئے تعلیم جاری رکھنا ا±ن کے بس کی بات نہیں بلکہ ضلع ڑوب میں اعلیٰ درجے کی یونیورسٹی کا قیام اور ا±ن میں فوری طور پر تعلیمی سلسلہ شروع کرنا ازحد ضروری ہے۔ پارٹی چیئرمین نے طلبائ کے پرہجوم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلباء وطالبات نے پہلے مرحلے میں اپنے اعلیٰ تعلیم کے حصول پر توجہ دینا ہوگی اور ہر قسم کی سستی، کاہلی کو چھوڑ کر مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے تعلیم کے حصول کو یقینی بنانا ہوگا اور انتہائی محنت کی روش اپنا کر اپنے نصاب پر عبور حاصل کرنا لازمی ہے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے نتیجے میں ہی ہر شعبہ زندگی کے ماہرین پیداہوسکتے ہیں اور آپ طلباء وطالبات میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ آپ مختلف شعبوں میں قوم کی راہنمائی اور قوم کی خدمت کیلئے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہواور اس طرح آپ مستقبل میں قوم کا اثاثہ و سرمایہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوانیپ اور پشتونخواایس او نے پشتونخوا وطن میں تعلیم عام کرنے، معیاری مفت تعلیم کی فراہمی اور طلباء وطالبات کی اعلیٰ انسانی، پشتنی اور اسلامی اصولوں پر تربیت کیلئے مسلسل تاریخ ساز جدوجہد کی ہے اب اس جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں ہی آج جنوبی پشتونخوا میں محکمہ تعلیم سمیت ہر شعبہ زندگی میں انفراسٹرکچر کی بنیاد پڑی ہے اور اب اسے مزید بہتر اور اعلیٰ درجے کے مقام تک پہنچانا ہے جبکہ ڑوب کے انہی تعلیمی اداروں سے اعلیٰ ماہرین اور سیاستدان پڑھ کر فارغ ہوئے ہیں اور پوری ملت کی راہنمائی اور تاریخ ساز جدوجہد کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ثابت ہوئے ہیں جس طرح ارواشاد عبدالرحیم مندوخیل، سائیں کمال خان شیرانی، رضامحمد رضا سمیت مختلف رہنما اس کی بہترین مثال ہے اور پشتونخواایس او نے ہمیشہ طلباءوطالبات کے تعلیمی، جمہوری حقوق اور اساتذہ کے حقوق کیلئے قربانیوں سے لبریز جدوجہد کی ہے اور اب بھی اس قومی فریضے کو احسن طریقے سے سرانجام دے رہی ہے لہذا طلباء وطالبات کے سیاسی، جمہوری، ثقافتی، سماجی اور غیر نصابی سرگرمیوں پر پابندی بلاجواز اور حقائق کے برعکس ہے کیونکہ نوجوان تعلیم یافتہ طبقہ موجودہ صورتحال کی بہترین آگاہی اور شعور رکھتے ہیں اور تعلیم کے ساتھ دوسری طرف پشتون سیاسی قومی تحریک میں بہترین رول ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اس دوقومی صوبے کے ہر شعبہ زندگی میں پشتون عوام کو ہر شعبہ زندگی میں شعوری طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے صوبے کے طلباءوطالبات کیلئے ہزاروں وظائف میں جنوبی پشتونخوا کے طلباء وطالبات اور علاقوں کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے اور اس کے ثبوت موجودہے جبکہ بلوچ علاقوں میں حکومتی رٹ نہ ہونے کے باوجود انہیں اربوں روپے کے پروجیکٹ اور ہزاروں کی تعداد میں وظائف دیئے جارہے ہیں اور یہ خوش آئند ہے اور ہم اس کے مخالف نہیں لیکن مقتدر قوتیں جنوبی پشتونخوا کو شعوری طور پر نظرانداز کرکے انہیں ہر شعبہ زندگی میں تنزلی کی طرف دھکیل رہے ہیں اور اس کا مقصد پشتون سیاسی قومی پرامن تحریک کو بھی بندوق ا±ٹھانے پر مجبور کررہی ہے جو قابل افسوس، ناقابل برداشت ہے کیونکہ پشتون سیاسی جمہوری پرامن تحریک اپنے حقوق و اختیارات کیلئے اب بھی پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور بدترین امتیازی سلوک پر مبنی یہ رویہ پشتون ملت کو بھی اپنے صورتحال کا جائزہ لینے اور نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہےجو ملک کے مستقبل اور موجودہ صورتحال کیلئے نیک شگون نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قومی سیاسی پرامن تحریک کو پشتون ملت کی کمزوری سمجھنا بہت بڑی بھول ہے اور حکمرانوں کو اس پشتون دشمن رویے، پشتون دشمن پالیسیوں اور پشتون دشمن اقدامات پر پچھتانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ طلباءوطالبات نے اپنی تحریک جاری رکھتے ہوئے پہلے مرحلے میں اپنی تمام توجہ علم کے حصول پر مرکوز کرنی ہوگی اور اپنے خاندان، اپنے گاو¿ں، اپنے شہر اور اپنے وطن کے ارمانوں کو مدنظر رکھ کر انتہائی محنت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا اور دوسرے مرحلے میں تحریک کے ساتھ وابستہ ہوکر اعلیٰ اخلاق و کردار کے حامل جوان بن کر اپنے محکوم اور مظلوم عوام کی خدمت میں دن رات ایک کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے لیکن صوبائی حکومتوں کی عدم توجہی، سستی اور کاہلی کے باعث وفاق ہمیشہ یہ عذر ڈھونڈر ہا ہے کہ صوبائی حکومتیں آٹھارویں ترمیم کے اہداف پر عمل نہیں کرسکتے اور وفاق کے عذراور آٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی سازشیں اور اقدام کسی صورت قابل قبول نہیں۔ لہذا بلخصوص ہمارے صوبے کے حکومت کو تعلیم کی ترقی کو اولین ترجیح دے کر پشتون بلوچ دونوں علاقوں میں برابری کی بنیاد پر پرائمری تعلیم سے لیکر اعلیٰ تعلیم کے یونیورسٹیوں کے قیام تک ان پر بھرپور توجہ دینی چاہیئے اور ہر سطح کی تعلیم کو معیاری بنانے کیلئے فوری اور تیز تر اقدامات کریں اور بلخصوص ہر ڈویڑن کے مرکز میں اعلیٰ یونیورسٹیوں کے قیام پر فوری توجہ دیں اور اس کیلئے خصوصی گرانٹ مختص کرلے جبکہ آٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کو دیئے گئے اختیارات کو بروئے کار لانے اور آٹھارویں ترمیم کے اہداف پر عملدرآمد کیلئے خصوصی اقدامات ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں