وزیراعظم شہباز شریف کا بلوچستان کے لیے ہزاروں وفاقی ملازمتوں کا اعلان خوش آئند ہے،ملازمتوں کی تعداد بڑھا کر 25 سے 30 ہزار تک کی جائے، جمال شاہ کاکڑ
کوئٹہ (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے جنرل سیکرٹری و رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کا بلوچستان کے لیے 9 سے 10 ہزار ملازمتیں مختص کرنے کے اعلان پر شکریہ ادا کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان ملازمتوں کی تعداد بڑھا کر 25 سے 30 ہزار تک کی جائے، تاکہ صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں اور احساسِ محرومی کے خاتمے میں مدد مل سکے امید ہے کہ وزیر اعظم پیکج کا بھی جلد اعلان ہوگا۔اپنے جاری کردہ بیان میں جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں بے روزگاری اور دیرینہ محرومیوں کے خاتمے کی جانب ایک اہم اور قابلِ تحسین قدم اٹھاتے ہوئے وفاقی محکموں میں ہزاروں ملازمتیں صرف بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے مختص کی ہیں، جس پر مسلم لیگ (ن) بلوچستان اور صوبے کے عوام ان کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان طویل عرصے سے روزگار کے محدود مواقع اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وفاقی محکموں میں ملازمتوں کا یہ اقدام نہ صرف بے روزگاری میں کمی کا باعث بنے گا بلکہ نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی اور احساسِ محرومی کے خاتمے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیرِ اعظم اس اہم اقدام کو مزید وسعت دیتے ہوئے مختص ملازمتوں کی تعداد 25 سے 30 ہزار تک بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کوئٹہ کیلئے خصوصی وزیر اعظم پیکج کا وعدہ کیا تھا امید ہے کہ جلد وزیر اعظم پیکج کے وعدے کو عملی جامہ پہنا کر اس کا اعلان کیا جائے گا۔انہوںنے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی مسلم لیگ (ن) کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے اور وزیرِ اعظم نے اس مطالبے پر مثبت پیش رفت کرتے ہوئے صوبے کے عوام کو ایک اہم تحفہ دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملازمتوں کی فراہمی میں میرٹ، شفافیت اور بلوچستان کے تمام اضلاع کے نوجوانوں کی یکساں نمائندگی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ دور دراز علاقوں کے تعلیم یافتہ نوجوان بھی ان مواقع سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے وزیرِ اعظم سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے تعلیمی اور صحت کے شعبوں پر بھی خصوصی توجہ دی جائے اور ان شعبوں میں موجود محرومیوں کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ بالخصوص صوبے کے طلبہ اور نوجوانوں کے لیے خصوصی اسکالرشپ پروگرام شروع کیا جائے اور ملک کے دیگر صوبوں کی اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں بلوچستان کے طلبہ کو مفت تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے، تاکہ مالی مشکلات کے باعث کوئی باصلاحیت نوجوان اعلیٰ تعلیم سے محروم نہ رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی محکموں میں ملازمتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی فنی و پیشہ ورانہ تربیت بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کے ذریعے بلوچستان کے 5 سے 10 ہزار نوجوانوں کے لیے ایک خصوصی اور بڑے پیمانے پر تربیتی پروگرام شروع کیا جائے، جس کے تحت انہیں جدید تقاضوں کے مطابق فنی مہارتیں سکھا کر بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان صلاحیتوں اور استعداد کے اعتبار سے کسی دوسرے صوبے سے کم نہیں، انہیں صرف تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مناسب مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت اگر ملازمتوں، تعلیم، صحت اور فنی تربیت کے شعبوں میں اسی جذبے کے ساتھ بلوچستان پر خصوصی توجہ جاری رکھے تو صوبے میں معاشی استحکام، ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔


