کوئٹہ کے ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان باعث تشویش ہے، پشتونخوامیپ
کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں کوئٹہ شہر کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار ادوئیات وسہولیات کی عدم فراہمی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سلیکٹڈ صوبائی وزیر اعلیٰ اور ان کے اتحادیوں کی نااہلی، عدم توجہی کے باعث سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام شدید اذیت کا شکار ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ شہر کی گنجان آبادی اور اس میں صرف چار سے پانچ سرکاری بڑے ہسپتال (سول) ہسپتال،(ٹراما سینٹر)، بی ایم سی ہسپتال، بینظیر ہسپتال، شیخ زاہد ہسپتال، فاطمی جناح ٹی بی ہستپال موجود ہیں جہاں علاج ومعالجے کے غرض سے کوئٹہ شہر کے عوام اور صوبے کے مختلف اضلاع وعلاقوں سے مریض آتے ہیں۔ جن کی کثیر تعداد سول ہسپتال جناح روڈ اور بی ایم سی ہسپتال بروری روڈکا رخ کرتے ہے۔ ایسے میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی، ہسپتال میں ادوئیات، مختلف لیبارٹری کے مشینوں کی خرابی یا متعلقہ سٹاف کے نہ ہونے کے باعث شہریوں کو مریضوں اور ان کے لواحقین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہی صورتحال کوئٹہ کے سول ہسپتال کے ٹراماسینٹر کا ہے جہاں ڈاکٹروں کی کمی اور غیر موجودگی، ادوئیات وسہولیات کے نہ ہونے کے باعث اکثر اوقات مریض اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں کیونکہ مختلف ٹریفک حادثات، لڑائی جھگڑا اور دہشتگردی کے واقعہ کی صورت میں زخمی ہونیوالے افراد کو پہلے پہل ٹراماسینٹر لایا جاتا ہے تاکہ ان کی بروقت علاج ہوسکے لیکن جب ڈاکٹرز ہی موجود نہیں تو ان کا علاج کیسے ہوگا؟ جبکہ کروناء وائرس کی وباء سے نمٹنے اور دن رات کام کرنیوالے ڈاکٹروں وسٹاف کیلئے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 2بنیادی اضافی تنخواہوں کی ادائیگی کے اعلان کے بعد اب تک ٹراماسینٹر کے ڈاکٹر ز کواضافی تنخواہیں ادا نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کے مطالبات پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔ اسی طرح سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کی صرف ایک ایک مشین پڑی ہیں اور ٹیکنیکل سٹاف اور ڈاکٹروں کی بھی شدید کمی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تمام صورتحال پر صوبائی سلیکٹڈ وزیر اعلیٰ اورصوبائی وزیر صحت نے خاموشی اختیار کررکھی ہے جبکہ سلیکٹڈ وزیر اعلیٰ صرف اور صرف فوٹو سیشن کیلئے ہسپتال جاکر وارڈ کا دورہ کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وباء کے بعد اب او پی ڈیز کو بھی فعال کردیا گیا اور ایک مخصوص تعداد میں مریضوں کی چیک اپ کی جاتی ہے۔ لہٰذا Sop’sپر عملدرآمد کرتے ہوئے او پی ڈی کے اوقات میں اضافہ کرتے ہوئے ڈاکٹروں کی تعداد بھی بڑھائی۔ تاکہ صوبے کے مختلف اضلاع سے علاج ومعالجہ کی غرض سے آئیں ہوئے مریض مایوسی کا شکار نہ ہو۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتربناتے ہوئے ڈاکٹروں اور ادویات وسہولیات فراہم کی جائیں اور اپنی ڈیوٹی میں غفلت برتنے والے ڈاکٹرز وسٹاف کیخلاف کارروائی کی جائے۔ اور ٹراماسینٹر سول ہسپتال کو مزید فعال اور تمام تر سہولیات فراہم کی جائے اورڈاکٹروں وسٹاف کی حاضری یقینی جائے تاکہ مریضوں کی مایوسی کا ازالہ کیا جائے جبکہ ٹراما سینٹر کے ڈاکٹروں کو 2بنیادی اضافی تنخواہوں کی ادائیگی کو بھی یقینی بنائی جائے۔


