محسن داوڑ کی گرفتاری،حکومتی روش کے خطرناک نتائج برآمدہونگے ،پشتون تحفظ موومنٹ

کوئٹہ:پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنمائوں نے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کی کوئٹہ آمد پر پابندی اور اغواء نماگرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ محسن داوڑ کوئٹہ میں چمن بارڈر واقعہ کے شہداء ،برمش کی والدہ ،حیات بلوچ کے واہل خانہ سے تعزیت کیلئے آئے تھے ،آئین کے تحت ملنے والے حقوق غصب کئے جارہے ہیں ،حکومتی روش کے خطرناک نتائج برآمدہونگے ۔ان خیالات کااظہار پی ٹی ایم کے رہنمائوں عبداللہ ننگیال ،ملک عبدالمجید کاکڑ، سید زبیر شاہ آغانے نور باچا،عبدالوہاب ،اجمل کاکڑ ودیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کوئٹہ کے شیڈول پروگرام پر آئے تھے وہ بلوچستان میں چمن واقعہ کے شہداء کے اہل خانہ ،برمش کی والدہ کے قتل ،تربت میں حیات بلوچ کے والدین سے تعزیت کرنے والے تھے لیکن کوئٹہ ائیرپورٹ پر انہیں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے روک لیا گیا وضاحت طلب کرنے پر کچھ بھی نہیں بتایاجارہا تھا ،انہوں نے کہاکہ اس سے قبل وہ خضدار کے علاقے نال میں میر حاصل بزنجو کی وفات پر تعزیت کیلئے آئے اس وقت تک تو کوئی پابندی نہیں تھی لیکن آج 29جولائی کالیٹر دکھایا گیا کہ محسن داوڑ کی بلوچستان آمد پرپابندی ہے ،انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کے حکام محسن داوڑ کو اپنے ساتھ لے گئے ،مختلف تھانوں میں دریافت کیا لیکن ان کاکوئی پتہ نہیں چل رہا ،کیا آئین پاکستان کے تحت کسی کو آزاد نقل وحرکت کی اجازت نہیں ہے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں پشتون بلوچ روایات کے مطابق مہمانوں کی مہمان نوازی کی جاتی ہے لیکن محسن داوڑ کی اغواء نما گرفتاری کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ،پی ٹی ایم نے دہشتگردی کی مذمت اور اس کے خلاف آواز بلند کی ہے ،اس طرح کے روش سے خطرناک نتائج برآمدہونگے ،وجوہات نہیں بتائے جارہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ پی ٹی ایم میں کوئی دھڑہ بندی نہیں ہم منظور پشتین کی سربراہی میں متحد ہیں ،انہوں نے مطالبہ کیاکہ فوری طور پر آئینی حقوق دیکر محسن داوڑ کو منظرعام پرلایاجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں