بی ایم سی بحالی تحریک کے مطالبات منظور کرنے کے وعدہ پرعملدرآمد کرایا جائے،غلام نبی مری
کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٖ بلوچ، پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری نے گزشتہ روز جی پی او چوک پر بی ایم سی بحالی تحریک کی جانب سے لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں جا کر بھوک ہڑتال پر بیٹھنے ڈاکٹرز، ملازمین، طلباء سے اظہار یکجہتی کی اس موقع پر تحریک کے چیئرمین عبداللہ صافی، وائس چیئرمین ڈاکٹر الیاس بلوچ، بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ، بی ایس او پجار کے مرکزی چیئرمین ملک زبیر بلوچ، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود ڈومکی سمیت ملازمین، طلباء کی بڑی تعداد موجود تھی اس موقع پر انہوں نے حکومت وقت کی جانب سے بی ایم سی کے ملازمین، ڈاکٹرز اور طلباء کے ساتھ جاری روا رکھے گئے ناانصافی اور غیر سنجیدگی کی مذمت کی اور کہا کہ حکمرانوں نے یکے بعد دیگر کئی مرتبہ بی ایم سی تحریک کے جائز مطالبات کو منظور کروانے کیلئے وعدے کئے اور یقین دہانیاں کرائی گئیں لیکن ماضی کی طرح اپنے یقین دہانی کی پاسداری نہ کر سکے جس کے نتیجے میں طلباء، ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے آج تادم مرگ بھوک ہڑتال جیسا قدم اٹھایا بھوک ہڑتال پر بیٹھے کئی کی حالت غیر ہو چکی ہے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے حکومت وقت کی یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے بی ایم سی کی پرانی پوزیشن بحال کرتے ہوئے 2017ء کے ایکٹ میں ترمیم کر کے اعلیٖ تعلیمی اداروں کے اختیارات صوبہ اپنے کنٹرول میں لے جس طرح ملک کے دیگر صوبوں میں تعلیم اداروں کے اختیارات صوبائی چیف ایگزیکٹو کے پاس ہیں بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں 18ویں ترمیم کے باوجود بھی اختیارات گورنر کے پاس ہیں جو کہ آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے اور پوری دنیا میں پسماندہ علاقے کے طلباء و طالبات کیلئے ڈسٹرکٹ میرٹ کوٹہ موجود ہے تاکہ پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات بھی اعلیٖ تعلیمی اداروں میں آ کر اپنے ملک و قوم اور اپنے علاقوں کے عوام کی خدمات کر سکیں لیکن بلوچستان میں سیلف فنانس پرائیویٹائزیشن اور اوپن میرٹ کا سسٹم رائج کر کے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات پر تعلیم کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے آپ کو جمہوری اور عوام دوست ہونے کے بلند و بانگ دعوے کر رہے ہیں آج بھی بلوچستان کے لوگوں کے مسائل و مشکلات کو آمرانہ دور کے حکمرانوں کی پالیسیوں کی طرح چلانے پر گامزن ہیں اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ بی ایم سی تحریک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز، طلباء، ملازمین گزشتہ ایک سال سے احتجاج پر ہیں اور انہیں گرفتار کر کے قید و بند سے دوچار کیا گیا لاٹھی چارج بھی کیا گیا اور بلوچستان ہائی کورٹ نے احکامات جاری کئے تھے کہ بی ایم سی تحریک ملازمین، طلباء و ڈاکٹرز کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے لیکن حکومت عدالت فیصلے کو ہی ماننے کیلئے تیار نہیں کیونکہ موجودہ حکمرانوں کی روش اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ یہاں کے عوام کیلئے ترقی و خوشحالی، تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی میں دلچسپی نہیں لے رہے انہوں نے کہا کہ بی این پی اپنے دستیاب پلیٹ فارم پر ہر طرح پر یہاں کے عوام اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ جاری مظالم پر آواز بلند کریں گے اور اپنا سیاسی، اخلاقی اور پارلیمانی کردار ادا کریں گے انہیں کسی بھی مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑیں گے صوبے کے اجتماعی مفادات پر خاموشی اختیار کریں گے نہ کسی قربانی سے دریغ کریں گے۔


