لاکھوں بچے سکولوں سے باہر، بجٹ کا صرف 2فیصد تعلیم پر کیا جارہا ہے، اسد بلوچ

کوئٹہ:صوبائی وزیر سماجی بہبود،خصوصی تعلیم ،خواندگی وغیر رسمی تعلیم ،ہیومن رائٹس میر اسد اللہ بلوچ نے کہاہے کہ پڑھے لکھے بلوچستان اور بین الاقوامی چیلنجزکا مقابلہ کرنے کیلئے ہر ماں اور باپ کو استاد اور ہر گھر کو سکول میں تبدیل کرناپڑے گا،علم کی دنیا میں سفر کرنے والے آگے بڑھ گئے جبکہ رہ جانے والے جہالت کی چکی میں پس رہے ہیں،صوبے میں لاکھوں بچے سکولوں سے باہر جبکہ بجٹ کا صرف 2فیصد تعلیم پر خرچ رکھاجارہاہے ہمیں سماج کی بہتری کیلئے اتحاد واتفاق کامظاہرہ کرناہوگا اور مل کر برائیوں کے خاتمے کے خلاف کرداراداکرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے خواندگی کے عالمی دن کی مناسبت سے بوائز سکائوٹس میں ڈائریکٹریٹ آف لیٹریسی اور نان فارمل ایجوکیشن بلوچستان کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے سیکرٹری سماجی بہبود،خصوصی تعلیم ،خواندگی وغیر رسمی تعلیم ،ہیومن رائٹس عبدالرئوف بلوچ،زہرہ یوسف ،ڈائریکٹرخواندگی وغیر رسمی تعلیم محکمہ سماجی بہبود،Alight کے نجیب خان ،عمیر کوکب ودیگر سمیت مختلف آرگنائزیشنز کے عرفان آغا، رفیق دمڑ ودیگر بھی موجود تھے ۔صوبائی وزیر سماجی بہبود،خصوصی تعلیم ،خواندگی وغیر رسمی تعلیم ،ہیومن رائٹس میر اسد اللہ بلوچ نے کہاکہ علم کی دنیا میں سفر کرنے والے آگے بڑھ گئے جبکہ رہ جانے والے جہالت کی چکی میں پس رہے ہیں ،کہتے ہیں کہ نیچر نے ظلم کیا نیچر نے تو ہمارے ساتھ انصاف کیاہے ،اس سرزمین کے سینے کے نیچے جہاں ہم زندگی گزار رہے ہیں دنیا کا ہر وہ نعمت موجودہے اور پھر ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ ہم اس کوبروئے کار لاکر ہم اپنی زمین اور اپنے لوگوں کے مستقبل بہتر اور انہیں سہولیات کی فراہمی ممکن بناسکے اوراس معاشرے کو ترقی کی راہ پرگامزن کرے ،انہوں نے کہاکہ پڑھے لکھے بلوچستان اور بین الاقوامی چیلنجزکے مقابلہ کیلئے ہر ماں اور باپ کو استاد اور ہر گھر کو سکول میں تبدیل کرناپڑے گاپھر جا کر ہم اس کامقابلہ کرسکتے ہیں ،لیکن بدقسمتی سے ہم ابھی تک آئی ایم ایف کی غلامی سے نہیں نکل سکے ہیں ،صوبے میں لاکھوں بچے سکولوں سے باہر جبکہ بجٹ کا صرف 2فیصد تعلیم پر خرچ رکھاجارہاہے ،انہوں نے کہاکہ بلڈنگز بنالیں سڑکیں بنالیں لیکن ان پڑھ لوگوں کو بیٹھانے سے ہم دنیا کامقابلہ نہیں کرسکتے ،جن لوگوں نے ترقی کی چین کامثال دنیا کے سامنے ہے جن کے بڑوں نے ملک کی ترقی کیلئے جدوجہد کی ،چین آج دنیا کی منڈی ہے ،جس کی معیشت مضبوط ہو وہ معاشرے میں ترقی کی راہ پرگامزن ہوسکتاہے ،ہمیں سماج کی بہتری کیلئے اتحاد واتفاق کامظاہرہ کرناہوگا اور مل کر برائیوں کے خاتمے کے خلاف کرداراداکرنے کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہاکہ لاکھوں لوگ یتیم وغریب موجود ہیں اگر ریاست ان پر کام نہیں کرے گااور پالیسی نہیں بنے گی تو یہ مافیا کے ہاتھوں استعمال ہوں گے اور معاشرے کی تباہ کاریوں میں استعمال کئے جائیںگے ،کیا ہماری ذمہ داری صرف اپنے آپ تک محدود ہے ،انہوں نے کہاکہ منشیات کے خلاف ایک جنگ شروع کی ہے منشیات فروش ایک مافیا ہے جو ہمارے معاشرے کو تباہ وبرباد کرناچاہتے ہیں اور اس کے خلاف ہمیں نکلنا ہوگا،ہمیں اپنی عوام اور سماج کیلئے سوچنا ہوگا،بلوچستان بھر میں بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) منشیات کے خلاف جنگ کا حصہ بن کر معاشرے کو منشیات کی لعنت سے چھٹکارا دلانے کیلئے احتجاج کریگی ،این جی اوز سے متعلق چیریٹی ایکٹ بنایاہے ہم ان کے ساتھ مکمل تعاون کرینگے لیکن بلوچستان اب کالا پیسا کو سفید کرنے کا جگہ نہیں رہا ،این جی اوز کے پاس پیسے آئیںگے تو انہیں کام کرنا ہوگا،بلوچستان حکومت انہیں ہرممکن تعاون فراہم کریگی ،پنجگور میں اس وقت 16کالجز بنے ہوئے ہیں 2یونیورسٹیاں ،ایگریکلچر،پولی ٹیکنیکل کالج جبکہ 5ڈگری گرلز کالجز موجود ہیں ،میں اپنے فنڈز تعلیم اور صحت پر خرچ کررہاہوں ،اگر نیت صاف اور اللہ کا مدد ساتھ ہو تو کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے ، اسمبلی میں تقریر کرکے کہ ہمارے پائلٹس کی ڈگریاں جعلی ہے یہ صرف اپنے آپ کو بدنام کرنے کے مترادف ہے ،پی آئی اے کو بدنام کرکے اس کا فائدہ کس کو ملے گا،سزا ہونی چاہے اورموثر انداز میں معاملے آگے بڑھایاجائے نہ کہ اپنے اداروں کو بدنام کیاجائے ،ہماری سوسائٹی ڈپریشن کاشکارہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں