حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے باعث مستقبل کے معمارسڑکوں پر ہیں، آغاحسن بلوچ
کوئٹہ :بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات چیئرمین قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ آغاحسن بلوچ نے گزشتہ روز بی ایم سی بحالی تحریک کے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا کیمپ میں بیٹھے نوجوانوں سے ملاقات کی اور کہا کہ حکمران بلوچستان کی ترقی کی و خوشحالی اور سماجی تبدیلی کے دعوے تو کرتے ہیں مگر آج بلوچستان کے نوجوان ‘ ملازمین ‘ طلباء سراپا احتجاج ہیں طویل عرصہ سے بی ایم سی تحریک بحالی کے حوالے سے آج بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں نوجوانوں کی طبیعت خراب ہو گئی ہے جی پی او سے چند قدم کے فاصلے پر حکمرانوں کے گھر موجود ہیں لیکن اتنے بہرے ہو چکے ہیں کہ مستقبل کے معماروں کے جائز مطالبات سننے کیلئے تیار نہیں دوسری جانب یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ بلوچستان کے نوجوان قومی دھارے میں شامل ہیں نوجوانوں کے ساتھ موجودہ روش اپنائی گئی اور تعلیمی انقلاب کے باتیں کی جا جاتی رہی ہیں تو ان کے عمل سے تضاد واضح دکھائی دے گا بلوچستان کے پسماندہ معاشرے میں بلوچستان اور کوئٹہ کے نوجوانوں نے بڑی مشکل سے تعلیمی حاصل کر کے بی ایم سی کی مخصوص نشستیں حاصل کرتے ہیں مگر حکمرانوں کے غلط پالیسیوں اور ناروا سلوک کی وجہ سے مستقبل کے معمار سڑکوں پر سراپا احتجاج اور موت و ذیست کی کشمکش میں مبتلا ہیں بی این پی کے قائد سردار اختر جان مینگل اور پارٹی کے پارلیمانی اراکین کی جانب سے یقین دہانی کرائی کہ ان کی اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے تاکہ ان کے مسائل فوری طور پر حل کئے جائیں اس کے برعکس صوبائی ‘ قومی اسمبلیوں‘ سینیٹ میں ناروا طلباء و ملازمین کش اقدامات کے خلاف آواز بلند کریں گے انہوں نے کہا کہ بی این پی کوئٹہ کی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت ہے اور پارٹی کی جو پذیرائی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں عوامی طاقت کے ذریعے جمہوری جدوجہد کو بروئے کار لا کر اس عمل کے خلاف جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے انہوں نے کہا کہ فوری طور پر بی ایم سی تحریک کے مطالبات منظور کئے جائیں اس کے برعکس ہم خاموش نہیں رہیں گے۔


