میانمار فوجیوں نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کا اعتراف کر لیا

واشنگٹن:میانمار سے فرار دو فوجیوں نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا اعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ سرکاری سرپرستی میں قتل عام کیا، بیس دیہاتوں پر حملہ، ڈیڑھ سو افراد کے قتل عام اور اجتماعی قبریں بنانے کا انکشاف بھی کیا۔امریکی اخبار کے مطابق میانمار سے فرار دونوں فوجیوں کو ہالینڈ کے شہر ہیگ میں پہنچا دیا گیا، ان کو عالمی عدالت انصاف میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق دونوں سپاہیوں کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ انہوں نے اور دیگر فوجیوں نے افسران کے کہنے پر روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کیا، اجتماعی قبریں بنائیں، خواتین کی عصمت دری کی اور گاوں کے گاوں خون میں نہلا دئیے۔ایک فوجی کا مزید کہنا تھا کہ اس نے 30 روہنگیا مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام میں حصہ لیا اور بعد میں انہیں ایک سیل ٹاور اور فوجی بیس کے قریب اجتماعی قبر میں دفنا دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں