بلوچستان یو نیور سٹی میں نشستوں کو کم کرنا طلبا کو تعلیم دور رکنے کے مترادف ہے ، پی ایس ایف
پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن یونورسٹی آف بلوچستان کے یونٹ آرگنائزر پائیدین خان کاکڑ، ڈپٹی آرگنائزر اسامہ خان کاسی اور ممبر وارث خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یونورسٹی آف بلوچستان کی داخلہ سیٹوں میں کمی اس پسماندہ صوبے کی نوجوان نسل کو تعلیم سے مزید دور کرنے کے مترادف ہے. بیان میں کہا گیا کہ ڈپارٹمنٹس کی سیٹیں سو سے لا کر پنتالیس تک محدود کردی گئی ہیں. طلباء تنظیمیں جب اس ناروا عمل کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں انہیں سیکورٹی فورسز کے ذریعے سے ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے. بیان میں کہا گیا کہ تعلیمی اداروں میں سیکورٹی اداروں کی بےجا مداخلت سے صوبے میں تعلیمی ماحول نہایت ہی متاثر ہورہا ہے جہاں کالجیں اور یونیورسٹیاں پرامن تعلیمی ماحول مہیا کرنے کی بجائے جنگ کے میدان کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ایف سی اور دیگر سیکورٹی اداروں کی موجودگی سے طلبا ذھنی تناو کا شکار رہتے ہیں جس سے تعلیم دوست ماحول کا مثبت پیغام نہیں آتا۔ جبکہ بلوچستان یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں سیکورٹی اداروں کی مداخلت ناقابل برداشت حد تک بڑھتی جارہی ہے۔ تعلیمی اداروں کے تمام امور سیکورٹی اداروں نے اپنے ہاتھوں میں لے کر یونیورسٹی انتظامیہ کے اختیارات نہایت ہی محدود کردیے ہیں. بیان میں مزید کہا گیا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان کو ایک بار بھر ایک نااہل وائس چانسلر کو مسلط کردیا گیا ہے جس سے پس پردہ قوتوں کے مزموم مقاصد و عزائم کا بخوبی ادراک کیا جاسکتا ہے. بیان میں کہا گیا کہ تئیس ستمبر کو ثقافتی دن کے طور پر منایا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے ہمیں اپنے ہی وطن میں تعلیمی اداروں میں اپنا ثقافتی دن منانے نہیں دیا جا رہا ہے. بیان میں حکموتِ وقت سے مطالبہ کیا گیا کہ یونورسٹی اف بلوچستان سے سیکورٹی فورسز کی مداخلت کو ختم کرایا جائے جبکہ بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی اور ادارے کے ہاسٹل کو ایف سی اور دیگر سیکورٹی اداروں سے فی الفور خالی کرایا جائے


