نقیب قتل کیس کا ملزم پولیس اہلکار شعیب شوٹر کئی اور وارداتوں میں بھی ملوث نکلا
سندھ ہائیکورٹ میں لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی جہاں دوران سماعت نقیب قتل کیس کے ملزم پولیس اہلکار شعیب شوٹر کے کئی اور وارداتوں میں بھی ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔
اس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ شعیب شوٹر پولیس کو مختلف جرائم میں مطلوب ہے، ملزم کا شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹ بھی بلاک کردیا گیا ہے جب کہ اسے پولیس کی ملازمت سے بھی فارغ کردیا گیا ہے۔
تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزم نے لاپتا شہری کے اغواء کیس میں عدالت سے ضمانت لی تھی تاہم 2018 میں نقیب اللہ کے قتل کے بعد سے فرار ہے، ملزم کے گھر اور مختلف ٹھکانوں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔
اس دوران جسٹس محمد اقبال نے ریمارکس دیے کہ شہری 7 سال سے لاپتا ہے اور اب تک پولیس نے نامزد اہلکار کو گرفتار نہیں کیا، لگتا ہے مفرور پولیس اہلکار گرفتار ہوگا تو مسئلہ حل ہوجائے گا۔
عدالت نے مفرور شعیب عرف شوٹر کو ہر صورت گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا اور جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا کہ ہم پولیس کو ایک ماہ کا وقت دے رہے ہیں، شعیب شوٹر کو گرفتار کرکے پیش کیا جائے۔
عدالت نے دیگر لاپتا شہریوں کی بازیابی سے متعلق تفصیلات بھی طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ لاپتا شہری کسی کیس میں ملوث ہیں یا کسی جماعت سے تعلق تو نہیں؟
خیال رہے کہ 13 جنوری 2018 کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلے کے دوران 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، جن میں 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسود بھی شامل تھا۔
بعدازاں نقیب اللہ محسود کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کی تصاویر اور فنکارانہ مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔


