اسٹیبلشمنٹ کے مخالف نہیں،زلمئے خلیل زادکو مذاکرات کے لیے جہاں جانا چاہئے وہا ں نہیں جاتا کئی اور چلا جاتا ہے، محمودخان اچکزئی
کوئٹہ: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیرمین محترم محمود خان اچگزی نے کہا کہ بدقسمتی سے دنیا جہان کی فوجیں جوکہ ہماری فوجوں سے طاقت ور ہے وہ بھی اپنے وزراعظم اور دیگر وزرا سے ملتے ہونگے ۔ اسٹیبلشمنٹ بھی اس ملک کا حصہ ہے لیکن پوری دنیا کا یہ قانون ہے کہ دنیا کی فوجیں اور اسٹبلشمنٹ سیاست میں مداخلت یا دخل اندازی نہیں کرتے ۔ دنیا کا ہر آئین یہ کہتا ہے کہ فوج کا سیاست میں کوئی قردار نہیں ہونا چاہیں ۔ آئین اس فیڈریشن کے قوموں کا ایک دستاویز ہیں ۔ جس میں پشتون بلوچ سندھی سرائیکی اور پنجابی شامل ہے ۔ ہم تاریخی طور پر ایک دوسرے کی مادری زبانوں کو نہیں جانتے اور نہ ہی ہماری تاریخ اور ثقافت یکسہ ہے ۔ ہماری فوجوں کی مداخلت کی وجہ سے یہ آئین ایک مزاق بن گیاہے ۔ آئین نہ رہا تو کچھ بھی نہیں رہے گا ۔ اور پاکستان کی بنیادیں ہل جاہیں گی ایور گرین سیاستدانوں کو جیسے جناح صاب نے بھی کھوٹے سکے کہا تھا ۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو ان سے دور رہنا ہوگا ۔ یہ لوگ محمد علی جناح سے لیکر عمران خان تک ہر ایک اقتدار کا حصہ رہے ہیں ۔ سیاسی پارٹیوں کو ان لوگوں کو جگہ نہیں دینا چائیں ۔ ہم نے تمام سیاسی پارٹیوں سے یہ درخواست کی کہ جن ججوں نے انصاف کی خاطر اپنے بچوں کے پیٹ میں لات ماری تھی ۔ اور مارشلاوں کے خلاف فیصلہ دیکر نوکریوں سے فارغ ہوے اور جن سیاسی کارکنوں نے کھوڑے کائے ۔ اور جو صحافی تاریک راہوں میں مارے گئے ہم سیاسی پارٹیوں کا کم از کم یہ وعدہ ہو کہ ہم ان کیلئے کوئی اعزاز رکھے ۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور بعض دیگر پارٹیوں کا مطالبہ تھا کہ آئندہ کی جمہوری حکومتوں کا یہ فیصلہ ہونا چاہیں کہ جن ججوں نے پی اسی و کے تحت حلف اٹھایا ہے ان کو ہم نہیں چھوڑیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں چیرمین پشتونخوا میپ محمود خان اچگزی نے کہا کہ ہر جرنیل جب حلف اٹھاتا ہے تو اس کے الفاظ یہ ہوتے ہیں کہ میں سیاست میں حصہ نہیں لونگا ۔ وہ مہربانی کرکے اپنے حلف کی پاسداری کرے باقی وہ ہمارے ملک کے افواج ہے ۔ دنیا کا کوی ملک بھی افواج اور جاسوسی اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا ۔ ہماری ایجنسیاں بھی دیگر ملکوں کی طرح با صلاحیت ہونی چاہیں ۔ لیکن وہ کم از کم سیاست میں مداخلت کار نہ بنیں ۔ ہمارے جرنیلوں نے تیس سال تک باصلاحیت فوجی جرنیلوں کا راستہ روکے رکا ۔ جنرل ایوب خان نے راستہ روکے رکھا تھا ۔ پھر گیارہ سال تک جنرل ضیا الحق نے تمام جرنیلوں کا راستہ روکے رکا ۔ پھر دس سال تک جرنل مشرف نے اس دوگنی زمہ داری کی وجہ سے ہماری فوج کی صلاحیتوں کو کمزور کردیا ۔ اور ہم یہ کسی قیمت پھر بھی نہیں چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ تو واضح بات تو میاں محمد نواز شریف نے کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری لڑای عمران خان سی نہیں بلکہ انہیں لانے والوں کیساتھ ہیں ۔ اور ان کو روکنا ہے کہ بس اب کافی ہے اب ملک کے اندر سیاست میں مداخلت نہ کرے کیونکہ آپ بھی اس ملک کے شہری ہیں ۔ اور ہم بھی ۔ محمود خان اچگزی نے کہا کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں بلکہ ہم یہ ملک ان لوگوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں جو سہی معنوں میں عوام کے حقیقی نماہندے ہوں ۔ دنیا جہان میں کئی بھی یہ نہیں ہوتا کہ آپ اپنے بچوں کو کرپٹ کریں اور پر اب جو وزیر مشیر یا وزیر اعلی بناے ۔ اور پر انہیں بلیک میل کریں ۔ دنیا جہان اپنے بچوں کو وطن سے محبت اور ایمانداری کا درس دیتی ہیے ۔ قومی صلامتی کے اداروں کو بھی سیاستدانوں کی مدد چائیں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پچاس سال سے لڑای جاری ہے ۔ تقریبا ساری دنیا اس میں ملوث ہے مزاکرات میں لیکن زلمء خلیلزاد آتا ہے اور جہاں اسے جانا چاہیں وہاں نہیں جاتا کئی اور چلا جاتا ہے ۔ ہمارا ملک جوکہ ایٹمی پاور ہے اس کی دنیا میں کیا حیثیت رہ جاتی ہے ۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چٹھا ساتواں ملک اس کی پارلیمنٹ ربڑ سٹیمپ ہے ۔ ایسا نہیں ہوگا ۔ یہ کوئی پاگل آدمی ہوگا کہ اس آدمی کی عزت نہیں کریں گا جوکہ خطرے کہ وقت اس کیلئے اپنے سر کی قربانی دیگا ۔ لیکن جب وہ نیک بخت اپنا کام چھوڑ کر دوہری زمہ داریاں اپنے سر لیگا ۔ تو یہ بربادی کا راستہ ہے ۔ وہ خود بھی برباد ہوگا اور ہمیں بھی بردباد کر دے گا ۔ پاکستان کے کسی بھی شہری کو یہ مرضی دی جاہیں کہ اسٹیبلشمنٹ یا پاکستان میں سے کسی ایک کو چھننا ہوگا تو سب پاکستان کے حق میں ہونگے ۔ اسٹیبلشمنٹ ہمیں عزیز ہوگی لیکن ملک سب سے زیادہ عزیز ہوگی ۔ کیونکہ اس میں ہمارے گھر اور قبرستان ہے اور اس میں ہمارے بچوں کا مستقبل ہے۔


