سرکاری ملازمین میں کیش ایوارڈ کی تقسیم کے حوالے سے کوئی تحریری فیصلہ نہیں دیا ،بلوچستان ہائیکورٹ
کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین میں کیش ایوارڈ کی تقسیم کے حوالے سے کوئی تحریری فیصلہ کیا اور نہ ہی کوئی اسٹے آرڈر جاری کیا ہے تو پھر توہین عدالت کس طرح ہوئی؟ درخواست گزار کی جانب سے توہین عدالت کہاں ہوئی ہے؟ یہ حکم بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے درخواست گزار بایزید خان خرورٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی توہین عدالت کی درخواست نمبر 67/2020 میں اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کیا۔ درخواست گزار نے اپنے درخواست میں موقف اپنا یا کہ انہوں نے ایک آئینی درخواست نمبر 718/2020 زیر سماعت ہے جس پر عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے۔ جو کہ آج تک عدالت عالیہ کے روبرو زیر سماعت ہے اس دوران چیف سیکرٹری بلوچستان کی ایما پر محکمہ خزانہ نے پرانے تاریخوں میں گورنر بلوچستان کے سیکورٹی پر تعینات پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کے ملازمین کو کیش ایوارڈ کی مد میں 2کروڑ 68 لاکھ 32 ہزار 508 روپے کی ریلیز آرڈر جاری کرکے 25ستمبر کو اکانٹنٹ جنرل آفس کو ارسال کرکے رقم جاری کرنے منظوری دی ہے جبکہ معزز عدالت کے روبرو کیش ایوارڈ کے مد میں سرکاری خزانے سے لئے ہوئے رقم دوبارہ جمع کرنے کی رسید پیش کی ہے اس اقدام سے ان کا فراڈ ظاہر ہو گیا تھا لیکن کیس کے سماعت کے باوجود خلاف قانون دیگر ملازمین کو رقوم جاری کی گئی ہیں۔ جو کہ نہ صرف خلاف قانون ہے بلکہ چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری فنانس، پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر اور اکانٹنٹ جنرل بلوچستان برملا طور پر توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں اس لئے آئین و قانون سے دانستہ طور گردانی پرچیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری فنانس، پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر اور اکانٹنٹ جنرل بلوچستان پر توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیئے جائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی قانون سے گردانی کر سکیں۔ عدالت نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔


