وفاق آرڈیننس کے ذریعے بلوچستان و سندھ کے ساحلی حدود پر تسلط قائم کرنے کا خیال ذہن سے نکال دے، رؤف مینگل
کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ممبرسنٹرل کمیٹی سابق ایم این اے میرعبدالرف مینگل نے اپنے ایک مذمتی بیان میں وفاقی حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے تحت بلوچستان اور سندھ کے جزائر کو وفاقی تحویل میں لیتے ہوئے آئی لینڈ اتھارٹی قائم کرنیکا فیصلہ بلوچستان وسندھ کی قومی وسائل پرجاری تسلط کزیدمستحکم کرکے دوام بخشنے کی کوشش کی جارہی ہے جودر حقیقت سترسالہ استحصالی حربوں کاحصہ ہے کہ کس طرح محکوم اقوام کی ساحل ووسائل پرجاری لوٹ کھسوٹ کومضبوط کیاجاسکے18ویں ترمیم کی خلاف ورزی ہیصوبائی حکومت اوراس میں شامل قوتوں میں یہ جسارت ہی نہیں کہ اس طرح کے مسلط کردہ آرڈیننس کومستردکرکے بلوچستان کی قومی و قیمتی اثاثوں کادفاع کرسکے مجوزہ آرڈیننس جاری نیوکالونی بنانے کی ریاستی سازشوں کی جاری عمل کاحصہ ہے جس کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں سو کے قریب چائنیزجہازوں کوسندھ بلوچستان میں ماہی گیری کیلئے پہلے ہی لائسنس جاری ہوچکے ہیں جن میں 25سے 30جہازبمعہ سازوں سامان بلوچستان سندھ ساحل تک پہنچ بھی گئے ہیں جبکہ ان ساحلی علاقوں کے مقامی ماہی گیر سراپااحتجاج ہیں اوران کی معاش ماہی گیری سے ہی وابستہ ہیاب ان کونان شبینہ کامحتاج کیاہی جارہاتھاکہ بلوچستان وسندھ کے ساحلوں کومتنازعہ وآمرانہ آرڈیننس کے ذریعے باقاعدہ وفاق اپنی تحویل میں لیکرصوبوں کوزبردستی بے دخل کرکے نفرتوں وفاق اورصوبوں کے درمیان معاذ آرائی کو اشتعال میں بدلنے کی کوشش ہے وفاق کی ناکام معاشی اقتصادی انتظامی پالیسیوں نے عوام کوپہلے سے ہی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پرمجبورکردیاہے وفاق مجوزہ متنازعہ آرڈیننس پرنظرثانی کرکے بلوچستان سندھ کے ساحلی حقوق پرتسلط قائم کرنے کاخیال نکال دے کیونکہ سیندک ریکوڈک بحربلوچ گوادرپرمتنازعہ غیرآئینی معائدات کے بعدآئی لینڈ بنانیوالے آرڈیننس جاری قومی حقوق پرقدغن لگانے کانارواعمل ہے جس کیخلاف اوراپنی قومی حقوق کی دفاع کاحق رکھتے ہیں اوروفاق کیمتنازعہ اقدامات پرمزیدخاموش نہیں رہ سکتے۔


