وفاق آرڈیننس جاری کرکے ساحل، وسائل اور جزائر کو اپنے تسلط میں نہیں لے سکتا، ثنابلوچ

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و رکن صوبائی اسمبلی ثنا بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان و سندھ کے جزائر تاریخی طور پر دو وحدتوں کی ملکیت ہیں، ایسے اقدامات صوبوں اور وفاق کے مابین جاری مشکل تعلقات کو مزید بگاڑ و تنازعات کی جانب لے جا سکتی ہیں- پاکستان میں سالانہ 2000 ارب روپے انتظامیہ پر خرچ کہیے جاتے ہیں اور یہ کام انتظامیہ کا ہے نہ کہ ٹاہیگر و کسی اور جانور فورس کا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان و سندھ کے جزائر تاریخی طور پر دو وحدتوں کی ملکیت ہیں- صدر پاکستان کاغذ کے ایک ٹکڑا پر احکامات آرڈینس جاری کرکے ساحل، وساہل و جزائر پر وفاق کے زیر تسلط نہیں لا سکتا- ان اقدامات صوبوں و وفاق کے مابین جاری مشکل تعلقات کو مزید بگاڑ و تنازعات کی جانب لے جا سکتی ہیں- وزیر اعظم کے ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محترم وزیراعظم صاحب پاکستان میں سالانہ 2000 ارب روپے انتظامیہ پر خرچ کہیے جاتے ہیں اور یہ کام انتظامیہ کا ہے نہ کہ ٹاہیگر و کسی اور جانور فورس کا- پاکستانی عوام تاریخ کے بدترین دور سے گذر رہے ہیں – عوام دوست فیصلوں کیلے سمارٹ فیصلے و سمارٹ گورننس کی ضرورت ہے – انہوں نے کہا کہ خضدار بلوچستان کا دوسرا بڑا شہر ہے – اسے درجنوں کالجز و یونیورسٹیوں کی ضرورت ہے- صوباہی حکومت بغیر عوامی منشا و مرضی کے تعلیمی منصوبوں کی ہیت تبدیل و ختم کررہی ہے – یہ فیصلہ بلوچستان اسمبلی میں بحث و مباحثہ کے بعد ہونے چاہیے کہ کس یونیورسٹی کو ختم و کا کو ضم کیا جائے –

اپنا تبصرہ بھیجیں