سپریم کورٹ میں عدالتی سوالات سننے کے بعد بلوچستان میں خدمات سرانجام دینے والے سابق ونگ کمانڈر لڑکھڑا کر گرگئے
اسلام آباد :سپریم کورٹ نے سابق ونگ کمانڈر احسن طفیل پنشن کیس میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ایئر فورس اور بلوچستان حکومت سے معلومات لینے کی ہدایت کی ۔جمعرات کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ احسن طفیل نے کہاکہ میری خدمات ائیر فورس سے بلوچستان حکومت کو دے دی گئی تھیں،بلوچستان حکومت مجھے پنشن نہیں دے رہی۔وکیل بلوچستان حکومت نے کہاکہ ائیر فورس سے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ بطور کنٹریکٹ ملازم بلوچستان حکومت میں آئے۔وکیل بلوچستان حکومت نے کہاکہ ونگ کمانڈر نے بلوچستان میں صرف سوا سال خدمات انجام دیں۔ وکیل بلوچستان حکومت نے کہاکہ بلوچستان حکومت کی سیمولیٹر کی مہنگی ٹریننگ لینے کے بعد انھوں نے ایک پرائیویٹ ادارہ جوائن کرلیا۔ وکیل بلوچستان حکومت نے کہاکہ بلوچستان حکومت کے اکیس لاکھ روپے انکی ٹریننگ پر لگے وہ واپس دلوائے جائیں۔ احسن طفیل نے کہاکہ میں نے ستائس سال حکومت پاکستان کو خدمات دی ہیں، میری خدمات بلوچستان حکومت کے پاس تھیں وہ مجھے پنشن دے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ خود کو بہت سمجھدار سمجھ رہے ہیں،پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قانون کے تابع ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ وائس ایئر چیف آپ کی خدمات کیسے کسی صوبے کو دے سکتا ہے،کس قانون کے تحت آپ کی خدمات صوبے کو دی گئیں،کیا اخبار میں اشتہار دیا گیا تھا آپ کو بلوچستان میں جس عہدے پر کیا گیا،اگر ہم نے میرٹ پر بات کی تو آپ کی بلوچستان میں نوکری غیر قانونی قرار پائیگی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق ونگ کمانڈر عدالتی سوالات سننے کے بعد لڑکھڑا کر گر گئے جس کے بعد انہیں کرسی پر بٹھایا گیا اور ڈاکٹر کو طلب کر کے سماعت میں وقفہ کر دیا گیا بعد ازاں سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ ایئر فورس حکام سے رابطہ نہیں ہوسکا،کچھ وقت دے دیں ایئر فورس اور بلوچستان حکومت سے معلومات لیکر آگاہ کروں گا۔ انہوںنے کہاکہ بلوچستان حکومت ریٹائرمنٹ دستاویزات نہیں دے رہی،بلوچستان حکومت کی جانب سے دستاویزات نہ ملنے پر ایئر فورس پنشن نہیں دے رہی۔ بعد ازاں عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ایئر فورس اور بلوچستان حکومت سے معلومات لینے کی ہدایت کر تے ہوئے سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کر دی ۔


