جمہوریت کی مضبوطی میں وکلاء نے فعال کردار ادا کیا ہے، اصغر خان اچکزئی
کوئٹہ؛عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر و صوبائی پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے انصاف کی فراہمی اور جمہوریت کے استحکام کے لئے وکلابرادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وکلابرادری اور وکلاکی نمائندہ تنظیموں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی و استحکام، جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لئے سیاسی قیادت کے شانہ بشانہ اپنا فعال کردار اد اکیا ہے اور اس راہ میں قربانیاں بھی دی ہیں جس پر ہم سب کو فخر ہے وکلابرادری کا فرض ہے کہ سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لئے ہر سطح پر اپنا کردار اد اکر یں،ہزارگنجی کوئٹہ اور پشاور مدرسے کے دہشت گردانہ واقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ان واقعات کی پیشنگوئی کرنے والے وزراکے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، اس وقت ایک طرف ملک میں عام آدمی کو مسائل ومشکلات کا سامنا ہے تو دوسری جانب ملک پر ایسے سلیکٹڈ حکمران مسلط کئے گئے ہیں جن کا عوامی مسائل سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں، پی ڈی ایم کی فعالیت سے ان پر لرزہ طاری ہوا ہے، اسدخان اچکزئی کی بازیابی یقینی بنائی جائے،شہید عسکر خان فانڈیشن وکلاکی فلاح و بہبود کے لئے کام کرتا رہے گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے شہید عسکر خان اچکزئی فانڈیشن کی جانب سے کچہری بار میں شٹل سروس اور وکلامیں کتابوں کی تقسیم کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئر مین سینئر وکیل منیر احمدکاکڑ ایڈووکیٹ،ایگزیکٹیو ممبر بلوچستان بار کونسل کلیم اللہ لاشاری ایڈووکیٹ، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد آصف ریکی ایڈووکیٹ،معراج الدین ترین،قاری رحمت اللہ ایڈووکیٹ، جمیل رمضان ایڈووکیٹ، عبدالجبار موسی خیل نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ اس موقع پر بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران،وکلاتنظیموں کے نمائندوں و عہدیداران سمیت وکلاکی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اصغرخان اچکزئی نے شہید عسکرخان فانڈیشن کی جانب سے وکلاکو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت کے لئے شٹل سروس اور کتابیں عطیہ کیں جبکہ انہوں نے کچہری بار میں وکلاکے لئے جم کی سہولت، لائبریری، لائبریری میں کمپیوٹر ز کی فراہمی اور دیگر آلات کی خریداری کے لئے20لاکھ روپے دینے کا بھی اعلان کیا۔اصغرخان اچکزئی نے کہا کہ وکلابرادری ہمارے معاشرے کا انتہائی اہم طبقہ ہے جس نے ہمیشہ ملک میں انصاف کی فراہمی اور جمہوریت کے استحکام کے لئے اپنا فعال کردار ادا کیا ہے ملکی تاریخ میں بحالی جمہوریت کی جتنی بھی تحریکیں چلی ہیں ان میں وکلابرادری نے صف اول کا کردار اد اکیا ہے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف وکلابرادری نے جس طرح کلمہ حق بلند کیااورسیاسی قیادت کے شانہ بشانہ ملک میں جمہوریت کی بحالی و استحکام، جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لئے فعال کردا رادا کیا اور اس راہ میں قربانیاں دیں اس پر ہم سب کو فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ آج اگرملک میں تمام حقیقی جمہوری اور عوامی سیاسی قوتیں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر متحد ہوئی ہیں تو اس کا کریڈٹ بھی وکلابرادری کو ہی جاتا ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی سے قبل پاکستان بارکونسل نے ملک کی تمام جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی اور سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع فراہم کیا انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک پر جو سلیکٹڈ حکمران مسلط ہیں انہیں عوام، جمہوریت، پارلیمنٹ، میڈیا اور دیگر جمہوری اداروں کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں نہ ہی ان میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ مسائل کا خاتمہ کریں یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کی فعالیت سے ان پر لرزہ طاری ہوگیا ہے او روہ کبھی سلیکٹڈ اور ٹارگٹڈ احتساب کی کوشش کرتے ہیں کبھی سیاسی انتقام میں اندھے ہو کر انتہائی بچگانہ حرکات کرتے ہیں ہمیں احتساب پر کوئی اعتراض نہیں لیکن سلیکٹڈ حکمران اگر سلیکٹڈ اور ٹارگٹڈ احتساب کریں گے تو ہم عوام کی قوت سے ان کی عزائم کوخاک میں ملادیں گے۔اصغرخان اچکزئی نے کہا کہ پی ڈی ایم کے کوئٹہ میں منعقدہ جلسے کے موقع پر ہزار گنجی میں بم دھماکہ ہوا او ر اب گزشتہ روز پشاور کے مدرسے میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ پیش آگیا ہے جس میں علمائے کرام اور طلباشہید وزخمی ہوئے ان واقعات کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے وفاقی وزراان واقعات کی پیشنگوئی کررہے تھے ان کے خلاف کارروائی کی جائے پی ڈی ایم ملک میں جمہوریت کی بحالی و استحکام، عدل و انصاف کی فراوانی، میڈیا کی آزادی، پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لئے میدان میں اتری ہے ہم اپنے اہداف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسی ریفرنس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپنے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے بھی ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے حق او رانصاف کی اس فتح میں وکلاکا کردار ناقابل فراموش ہے مگر ایف بی آر کے ہاتھوں جسٹس فائز عیسی کے اہلخانہ کو چکر لگوانے کے سلسلے بھی اب بند ہوجانے چاہئیں کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے دنیاپر ہم ہنستی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے نے بہت زیادہ غیر معمولی حالات کا سامنا کیا بلوچ رہنماں میں نواب اکبرخان بگٹی کو وفاق کے سب سے زیادہ قریب سمجھا جاتا تھا لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نواب اکبرخان کو دیوار سے لگایا گیا اور حالات یہاں تک پہنچادیئے گئے کہ ان کی شہادت واقع ہوگئی اب ہمیں خدشہ ہے کہ جو حالات بلوچ علاقوں میں پیش آئے انہی حالات سے پشتون بیلٹ کو دوچار کیا جارہا ہے تاکہ پشتون عوام کو بھی دیوار سے لگایا جائے اور ان کے صبر کا پیمانہ لبریز کیا جائے انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسدخان اچکزئی کی عدم بازیابی پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسدخان اچکزئی گردوں کے مریض ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق اسدخان اچکزئی زیادہ ڈپریشن برداشت نہیں کرسکتے اسی لئے ہمیں اب اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں خدانخواستہ اسدخان اچکزئی کو کچھ ہو نہ گیا ہو اور وہ صوبے کی تاریخ کے دوسرے اسدمینگل نہ بن گئے ہوں انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسدخان اچکزئی اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں تو انہیں رہا کرکے ان کے خلاف کیس بنا کر انہیں عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر وہ حکومتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس نہیں تو پھر ہمارا سوال یہ ہے کہ ان کی بازیابی کے لئے اب تک کوئی پیشرفت کیوں نہیں ہوئی اور جب اغواکوئٹہ کے بارونق علاقے سے لوگوں کو اغواکرسکتے ہیں تو پھردور دراز علاقوں میں حکومت اور انتظامیہ کی رٹ کا کیاحال ہوگا۔اس موقع پر انہوں نے شہید عسکرخان فانڈیشن کی جانب سے وکلامیں کتابیں تقسیم کیں اور اس عزم کااظہار کیا کہ فانڈیشن آئندہ بھی وکلابرادری کے مسائل کے حل کے لئے اپنا فعال کردار اد اکرتا رہے گا۔


