سی پیک منصوبوں کی تکمیل کیلئے میری چوائس آج بھی جنرل عاصم باجوہ ہیں،اسد عمر

لندن: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کی اتھارٹی کی مدت ختم ہو گئی ہے لیکن وہ آج بھی میرے لیے بہت کار آمد ثابت ہو رہے ہیں، میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں جس طرح وہ آج بھی ہماری مدد کررہے ہیں میری چوائس آج بھی وہی ہیں۔بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں وفاقی وزیر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخاب کو اگلے عام انتخابات کی بنیاد کہنا مناسب نہیں ہو گا۔’یہ تو اس کے زیادہ معنی نکالنے والی بات ہو جائے گی۔ گلگت بلتستان کا انتخاب ایک اہم الیکشن ہے اور ہر پارٹی کی خواہش ہے کہ وہاں سے بہتر نتیجہ آئے۔ لیکن اس کو یہ کہنا کہ یہ اگلے عام انتخابات کی بنیاد بنے گا میرے خیال میں یہ مناسب نہیں ہو گا۔ جی بی کے انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سیاسی اتحاد پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہمارا بنیادی اتحاد تو مذہبی جماعت بین المسلمین کے ساتھ تھا۔ خطے کی 22 نشستوں کے لیے ہمارے امیدوار انتخاب لڑیں گے جبکہ دو نشستوں سے بین المسلمین کے امیدوار میدان میں اترے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ آزاد امیدواروں کے ساتھ بھی بات چیت ہوئی ہے۔ باقی کسی بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ تو اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جبکہ دوسری جانب انھوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ سروے میں پاکستان تحریکِ انصاف انتخابی مہم دیگر سیاسی جماعتوں سے کافی آگے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تو ہمیں امید ہے کہ اچھی خبر آئے گی۔انتخابات کے دوران ایک بات یہ بھی سننے میں آئی کہ گلگت بلتستان ضلع تانگیر میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان خواتین کے تحفظ اور انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے متعلق وفاقی حکومت کیا کررہی ہے؟اس سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ ’یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ تو جو بھی روک رہا ہے وہ غیر قانونی اور غیر آئینی بات کر رہا ہے۔ اور اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ ’لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کی اتھارٹی کی مدت ختم ہو گئی ہے لیکن وہ آج بھی میرے لیے بہت کار آمد ثابت ہو رہے ہیں۔ میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں جس طرح وہ آج بھی ہماری مدد کررہے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ ’تاحال عاصم باجوہ کو نہ تو کوئی معاوضہ مل رہا ہے اور نہ ہی وہ کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اور امید یہ ہے کہ جس وقت یہ (سی پیک) بِل پاس ہو جائے گا اور دوبارہ اتھارٹی بن جائے گی، تو کم از کم میری تو چوائس یہی ہو گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب تک کی کارکردگی کی بنیاد پر عاصم باجوہ ایک نہایت ہی عمدہ امیدوار ثابت ہوں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ پر لگنے والے الزامات کے بارے میں وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ ’پہلے تو سیاست میں ایسا کوئی شخص نہیں بچا جس پر الزامات نہ لگے ہوں۔ ان پر لگائے گئے الزامات کا تعلق سی پیک سے نہیں ہے۔ انھوں نے تمام تر الزامات کے جواب دیے ہیں۔ میں اس میں نہیں جانا چاہوں گا کہ یہ الزامات صحیح ہیں یا نہیں، لیکن عاصم باجوہ نے ان کے جواب دیے ہیں۔ سی پیک کی قانونی حیثیت کے بارے میں وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ ’میں پہلے تو یہ وضاحت کردوں کہ سی پیک کا کام نہیں رکا ہے۔ سی پیک کے کام کی ذمہ داری میرے پاس تھی، ہے اور رہے گی۔ سی پیک اتھارٹی ہو یا نہ ہو کام چل رہا ہے اور اس میں پہلے سے اور تیزی آئی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ’سی پیک آرڈیننس کی مدت ختم ہو گئی تھی۔ اور ایک نئے بِل پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ لیکن ایک ترمیمی مسودے پر اب بھی بحث جاری ہے۔ میری سمجھ یہ ہے کہ اگلی بریفنگ تک قائمہ کمیٹی اس بِل کو ترامیم کرنے کے بعد پاس کر دے گی۔ جس کے بعد وہ اسمبلی میں ووٹ کرنے کے لیے لایا جائے گا۔سی پیک اتھارٹی ٹیم کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’یہ وزارتِ منصوبہ بندی کا پراجیکٹ ہے جس کے تحت سی پیک کی ٹیم بنی تھی۔ وہ ہی ٹیم کام کر رہی ہے۔ تو اس ٹیم کی فنڈنگ وزارت برائے منصوبہ بندی سے آتی ہے اس کا سی پیک سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سی پیک اتھارٹی ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ ٹیم پہلے سے اپنی جگہ موجود ہے۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں