پی ڈی ایم بیانیے میں کوئی تضاد نہیں ہے،میاں افتخار حسین

اسلام آباد:پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کے سیکرٹری اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ہمارے بیانیے میں کوئی تضاد نہیں ہے،جرنیل کا نام لینا یا نہ لینے کا اے پی سی میں کوئی ذکر نہیں،اے پی سی کی کچھ شقوں میں اضافہ کیا گیا ہے،ہم آئین کی بالادستی چاہتے ہیں،عوامی اجتماع پر پابندی پی ڈی ایم کے لیے لگائی جارہی ہے۔ عجیب سی بات ہے کہ گلگت بلتستان میں کرونا نہیں تھا،وہاں تو بڑے بڑے جلسے ہوئے،پی ڈی ایم کی حکوت مخالف تحریک کو نہیں روکا جا سکتا۔ ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد میڈیاکوبریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پی ڈی ایم کے آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔ اے پی سی میں چھبیس نکات پر بات کی گئی،جو قرارداد پاس ہوئی وہ سربراہی اجلاس میں رکھیں گے۔ اجلاس میں پشاور جلسے سے متعلق بھی بات چیت ہوئی۔شٹرا ڈاون اور اسلام آباد مارچ سے متعلق تجاویز آئیں۔فیصلہ سربراہی اجلاس میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا حکومت مخالف تحریک شٹر ڈاون اور اسلام آباد مارچ بھی ہو سکتا ہے۔انکا کہناتھا جو بھی بات ہو گی پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہو گی۔اگر مذاکرات کی فضا بنی تو پی ڈی ایم سربراہان مذاکرات کا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اجتماعات پر پابندی پی ڈی ایم کیلئے لگائی جارہی ہے۔ایس او پیز پر عملد آ مد ہونا چاہئے۔ عجیب بات ہے گلگت بلتستان میں کرونا نہیں تھا،وہاں تو بڑے بڑے جلسے ہوئے۔ پی ڈی ایم کی حکوت مخالف تحریک کو نہیں روکا جا سکتا۔میاں افتخار حسین کا کہنا تھاکہ گلگت بلتستان کے الیکشن میں تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی ہے۔گلگت بلتستان میں فری اینڈ فیئر الیکشن نہیں ہو ئے۔آئین کی بالادستی چاھتے ہیں ادارے آئین کے تحت کام کریں۔گلگت بلتستان کے الیکشن کے حوالے سے عذر داریاں جمع کر رہے ہیں۔عوام نے گلگت بلتستان میں اپنا رخ دکھایا ہے حکومت نے پھر بھی راستہ روکا۔پہلے چار صوبوں میں دھاندلی کا رونا رو رہے تھے۔ اب جی بی میں بھی دھاندلی کی گئی۔میاں افتخارحسین نے بتایا کہ اجلاس میں جسٹس وقار ارشد وحید چوہدری کے لیے دعا مغفرت کرائی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں