25نومبر سے سکول بند کرنے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے،نجی سکولزمالکان
کوئٹہ:رائٹ فار پرائیویٹ اسکولز کے چیئرمین بہادر خان لانگواور صدر داود شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ حکومت کے 25نومبر سے سکول بند کرنے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے اگر حکومت نے کسی سکول کی رجسٹریشن منسوخ کی تو ملک گیر احتجاج کریں گے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر طاہر خان بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے 15ستمبر تک اسکولز بندتھے ہم نے وزیرتعلیم سے کہا تھا کہ اگردوبارہ سکولز بند کرنے ہیں تو انہیں کھولا ہی نہ جائے جب سکول دوبارہ کھولے تو ہم نے اسکولوں میں گیس کا مسئلہ حل کیا تاکہ سردیوں میں بچوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں ن نے کہا کہ گزشتہ روز بھی وزیر تعلیم سردار یارمحمد رند سے ملاقات کرکے انہیں بتایا کہ بچوں کوسمارٹ کورس مکمل کرادیا گیا ہے اور ہم انکا امتحان لیں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اگر اپنے تعلیمی ادارے بند کرتا ہے تو بلوچستان میں بھی تعلیمی ادارے بند کردیئے جاتے ہیں یہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیورو کریٹس کے بچے بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں ان بچوں کی آٹھ ماہ تک بھاری بھر فیسیں بنکوں میں جمع ہوتی رہی ہیں ہم پندرہ سو روپے فیس میں ایک لاکھ روپے بلڈنگ کرایہ،اساتذہ کی تنخواہیں اوردیگراخراجات کس طرح پورے کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے ایک ارب گیارہ کروڑ روپے نجی بنک میں رکھے گئے ہیں جس کا منافع یہ لوگ لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے ہی بچوں کو پہلے ہی اگلی کلاسوں میں پرموٹ کردیا گیا ہے اب جو بچے کالجز میں گئے ہیں ہمیں دیکھیں گے کہ اساتذہ انہیں کیسے پڑھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ نے کروڑوں روپے رجسٹریشن کی مد میں جمع کرلئے ہیں یہ بچوں کو اگلے سال پھر پرموٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت زمینیں فراہم کرتی ہے لوگ اس پر تعلیمی ادارے بنادیتے ہیں ہم نے بھی وہاں بڑے بڑے تعلیمی ادارے بنائے ہیں جبکہ بلوچستان میں آج تک حکومت نے کسی کو زمین نہیں دی ان کی کرپشن کا یہ حال ہے کہ پندرہ ہزار روپے میں اسکولوں کی رجسٹریشن دیتے ہیں۔ایک سوا ل کے جواب میں داود شاہ نے کہا کہ ہم بلوچستان میں تعلیم کا سلسلہ 15دسمبر تک جاری رکھیں گے اگر حکومت نے اس میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی تو اپوزیشن جماعتوں اورعوام کے ساتھ ملکراحتجاج کریں گے۔


