اپوزیشن کی لڑائی کس سے ہے؟

اپوزیشن نے اپنا پیغام زیادہ قوت سے عوام تک پہنچانے کے لئے 11چھوٹی بڑی جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم نامی ایک ڈھیلا ڈھالاپلیٹ فارم تشکیل دیا ہے اور اس پلیٹ فارم سے آخری جلسہ 13 دسمبر2020کو مینارپاکستان(لاہور) کے تاریخی مقام پر کیا جائے گا۔حکومت کی دلی خواہش ہے کہ جلسوں کی سیاست کچھ عرصہ کے لئے معطل کر دی جائے تاکہ کورونا کے پھیلاؤ خطرہ محدود رہے۔اس میں شک نہیں کہ کوروناکی دوسری لہر نے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اپنا دائرہ پھیلانا شروع کر دیاہے۔ لیکن اپوزیشن کا خیال ہے کہ حکومت کورونا کوایک سیاسی حربہ کے طورپر استعمال کرنا چاہتی ہے۔علاوہ ازیں اپوزیشن یہ بھی سمجھتی ہے کہ حکومت پی ڈ ی ایم کے جلسوں سے خوف زدہ ہے اور اس کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔بلکہ اتنی خوفزدہ ہے کہ اول تو اسلام آباد تک لانگ مارچ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی 13دسمبر سے پہلے ہی مستعفی ہوکر گھر چلی جائے گی، نہ گئی تو پی ڈی ایم کا لانگ مارچ راستے میں ہوگا اور اسے اطلاع مل جائے گی کہ عمران خان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے قائدین اپنے جلسوں میں مسلسل اعلان کرتے ہیں کہ ان کی جنگ عمران خان کے خلاف نہیں انہیں لانے والوں (اسٹیبلشمنٹ}سول/ملٹری بیوروکریسی{)کے خلاف ہے۔ عام آدمی اس اعلان یا بیانیے سے یہ سمجھتا ہے کہ پی ڈی ایم موجودہ حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ اس لئے کر رہی ہے کہ جیسے ہی عمران خان ان کے جلسوں یا اسلام آباد تک لانگ مارچ سے ڈر کر اسلام آباد خالی کر دیں گے تو یہ ”اسٹیبلشمنٹ“ سے کہیں گے:”تمہار الایا ہوا وزیر اعظم ہمارے ساتھ آئے ہوئے ہمارے حامیوں کے خوف سے بھاگ گیاہے اس لئے ہم عوام کے اصل نمائندے ہیں،لہٰذا ہم سے ڈائیلاگ کئے جائیں،ہمارے ساتھ مل کر پاکستان کو چلانے کی حکمت عملی وضع کی جائے!، ورنہ سب کچھ تنکوں کی طرح بہہ جائے گا“۔
پی ڈی ایم کی قیادت یا تو کسی بہت بڑی خوش فہمی کا شکار ہے(جیسا کہ ایک سال پہلے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن تنہا اپنے کارکنوں کو لے کر اسلام آباد کے قریب خیمہ زن ہوئے تھے اور اسلام آباد کو فتح کئے بغیر ہی یہ کہتے ہوئے واپس لوٹ گئے تھے کہ
۔۔۔۔”جس کو فائدہ پہنچنا تھا، پہنچ گیا ہے“۔۔۔
اور اس دوران مسلم لیگ نون کے تاحیات رہبر تین بار کے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کو پاکستان میں ضمانت پر چھوڑ کر اپنی شدید علالت کے باعث میڈیکل اور لیگل بنیادوں پرپڑوسی ملک کے حکمرانوں کے بھیجے گئے ہوائی جہازمیں لندن روانہ ہوچکے تھے۔اس بار کسے فائدہ پہنچانے کی مہم پر مولانا یہ سب کچھ کر رہے ہیں اس کا علم ”موعودہ دھرنے“ کے اختتام تک ہو جائے گا۔ابھی تک تحریک ایک ایسے مفروضے پر آگے بڑھائی جارہی ہے جو اپنی ساخت کے اعتبار سے دو متضاد عناصر پر قائم ہے۔جس حکومت کو گرانا مقصودہے اس سے مذاکرات یہ کہہ کر نہیں کئے جا رہے کہ یہ بے نتیجہ رہیں گے، ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔حکومت مڈل مین کا کردار ادا نہیں کرے گی۔مذاکرات براہ راست اسٹیبلشمنٹ}سول/ملٹری بیوروکریسی{ سے کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا جارہا ہے جسے جمہوریت کا قاتل مانتے ہوئے پی ڈی ایم تشکیل دی گئی تھی۔اور نون لیگ کے تمام(دوسرے اور تیسرے درجے کے)رہنماؤں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی کہ آئندہ کوئی بھی کسی فوجی افسر سے خفیہ ملاقات نہیں کرے گا، مذاکرات عوام کے سامنے کئے جائیں گے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ عوام کے سامنے مذاکرات کے لئے دوسرے فریق کی عائد کردہ کوئی شرط پوری کی جارہی ہو، یا عوام کے سامنے سرخ روئی کے لئے اس ضرورت کو پورا کیا جا رہاہو؟تاہم یہ معاملہ اتنا سادہ اور صاف بھی نہیں کہ پی ڈی ایم کا تضاد بھرا نعرہ بلا چون و چراں مان لیا جائے۔
سیاست کوئی دو اور دو چاروالی جمع تفریق یا ضرب تقسیم کا حسابی عمل نہیں ہے،اس میں حیرانگی سے شاعر کہتاہے:قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند#دو چار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گئے!،دوسرا شاعر یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ نیرنگیئ سیاستِ دوراں تو دیکھئے؛؛ منزل انہیں ملی جو شریک ِسفر نہ تھے۔ سیاست کی کیمسٹری عام انسانی نفسیات سے قدرے مختلف ہے۔یہاں کوروناکی طرح کب متأثرین کی تعداد بڑھ جائے اور کب کم ہونے لگے اس بارے پیش گوئی آسان نہیں۔بہت سے ان دیکھے عناصر بیک وقت فعال ہوتے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی پر کسی انسان کا کنٹرول نہیں ہوتا،ہمارے تاریخ دان مصر ہیں کہ جنرل محمد ایوب خان کی حکومت کا خاتمہ اس لئے ہوگیا تھا کہ عوام نے چینی کے داموں میں چار آنے کا اضافہ برداشت نہیں کیا اور ناراض ہوکر سڑکوں پر آگئے جنرل ایوب خان گھر چلا گیا اگر یہ بات من و عن درست مان لی جائے تو عمران خان کے دور میں چینی کی قیمت55روپے سے بڑھ کر 110روپے ہوگئی مگر عمران خان گلگت بلتستان میں بھی حکومت بنانے میں دوتہائی اکثریت سے کامیاب ہوگئے۔ تاریخ دان یہ بھول جاتے ہیں کہ ایوب خان نے اقتدار اپنے آئین کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی کے سپرد نہیں کیا، جنرل یحییٰ خان کے حوالے کیاتھا۔چینی اس وقت بھی دھوکا دے گئی تھی۔پی ڈی ایم کواسلام آباد پہنچ کر کیا ملتا یہ تو آنے والا وقت بتائے گامگر پی ڈی ایم کے پاس غلطی کا نہ پہلے کوئی چانس تھا، نہ ہی جنوری کے مہینے میں غلطی کی کوئی گنجائش ہے۔ابھی تک پی ڈی ایم اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکی کہ لاہورکے جلسے سے نون لیگ کے تاحیات رہبرنواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے یا نہیں؟یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ ملتان کے جلسے سے انہوں نے خطاب نہیں کیاتھا۔شنید ہے کہ پی ڈی ایم کی قیادت ابھی تک نوازشریف کے بیانیے سے مکمل اتفاق نہیں کر رہی بعض رکن پارٹیوں کو تحفظات ہیں۔مریم نواز ایک سے زائد بار کہہ چکی ہیں کہ ان کے والد نواز شریف کے بیانیے کا بوجھ سب نہیں اٹھا سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں