اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت تک پاکستان میں خلفشار رہے گا،ملک سکندرایڈووکیٹ

پشین:جمعیت علمااسلام کے رہنما بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندرخان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی تحریک ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی پارلیمینٹ کی بالادستی کے لئے جدوجہد کررہی ہے جب تک ملک میں آئین پر عمل درآمد نہیں ہوتا تب تک پاکستان میں خلفشار رہے گا اور بیرونی دبا ہوگا اگر آئین کے تحت حکومت بنے گی ادارے آئین کے تحت اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرے گی تو آئندہ پانچ دس برس میں دنیا کا امیر اور معتبر ملک ہوگا 22کروڑ کے آبادی والا ملک کو مذاق سے نہیں چلایا جاسکتا دنیا حیران ہے کہ پاکستان میں کرپشن لاقانونیت اور لوٹ مار کے باوجود کیسے چل رہا ہے پاکستان کو اللہ تعالی نے وسائل سے مالامال ملک بنایا ہے حکومت کی جانب سے دو فیصد لوگوں کی مدد کرتی ہے جبکہ اٹھانوے فیصد لوگ ملک کے مٹی سے اپنے دو وقت کی روٹی کماتے ہیں لیکن اگر کرپشن کا خاتمہ ہوگا آئین وقانون کی بالادستی ہوگی عوام کے وسائل کو عوام کے فلاح وبہبود پر خرچ کیا جائے گا تو ہماری ملک کی معیشت خود بخود مضبوط ہوگا ہماری جان آئی ایم ایف اور ورلڈ بینگ سے جان چوٹ جائے گی سیاسی طور پر پاکستان کی سیاست کو 1948میں ہی مفلوج کردیا تھا اور آج تک ملکی سیاست مفلوج ہے سیاستدان آج بھی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے دست نگر ہے عوام کے مفاد پر تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں وقت اور حالات کے تقاضا کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل دی گئی ہے دوسال قبل جمعیت علمااسلام آزادی مارچ کرکے موجودہ وفاقی سلیکٹڈ حکومت کو چیلنج کیا تمام تر تضادات کے باوجود ملک کے 22کروڑ عوام کا قائد جمعیت علمااسلام مولانا فضل الرحمان کے قیادت پر متفق ہونا باعث فخر ہے عوام یہ سمھجتی ہے کہ یہی قیادت ملک وقوم کو ظلم اور جبر سے نجات دلائے گی پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن استعفوں پر رضامند ہوچکی ہے سب جانتے ہیں کہ ملک کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے اور پی ڈی ایم ہی ملک وقوم کو بڑی مصیبت سے نجات دلائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ پشین کے موقع پر صحافیوں کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی اس موقع پر حاجی محمد قاسم خلجی حاجی رحمت اللہ کاکڑ حاجی محمد ہاشم زین اللہ کاکڑ عبدالمصور پہلوان فیض اللہ عادل اور دیگر بھی موجود تھے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ ان حالات میں بیک ڈور ڈپلومیسی کے ساتھ مزاکرات ہونگے اور اسٹیبلشمنٹ حرکت میں آئے گی پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب مزاکرات افراد نہیں بلکہ پی ڈی ایم کرے گی جب تک اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت کریگی تو ملک خلفشار کا شکار رہیگا اور ملک کے سلامتی کے لئے عوام روئیں گے ان ہاوس تبدیلی سمیت کئی آپشن پی ڈی ایم کی زیرغور ہیں بنیادی مسئلہ پاکستان میں آئین کی بالادستی اور قانون کا بلاامتیاز نفاذ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں