گوادر اور تاریخی حقائق

تحریر:بلاول بلوچ
میڈیا، وفاق اور اسٹبلشمنٹ نے گوادر کی تاریخ کو روندتے ہوئے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک جھوٹا بیانیہ مشہور کیا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت نے گوادر کو بلوچستان کا حصہ بنایا مگر کئی صدیوں سے مکران کے ساحل پر آباد بلوچ واسی اپنے وطن کی تاریخ سے بخوبی آشنا ہیں، ساحل مکران گوادر جسے قبضہ کرنا ہر عہد کے طاقتوں کا سب سے بڑا خواب رہا ہے۔مگر تاریخ گواہ ہے کہ ساحل کے بیٹوں نے ماں دھرتی کی دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ گوادر جہاں اس صدی کا سب سے بڑی سازش کا کھیل کھیلا جارہا ہے آج سے نہیں بلکہ کئی صدیوں سے بلوچ سرزمین کا حصہ رہا ہے اور بلوچ ہمیشہ اس کے پاسبان رہے ہیں۔ یورپی طاقت پرتگیزوں سے لے کر سلطنت عثمانیہ کے ترک اور فارس کے صفوی حکمران سب نے گوادر یا ساحل مکران پر راج کرنے کے نہ صرف خواب دیکھے ہیں بلکہ جنگ، حملوں اور سازشوں کے ذریعے کوششیں بھی کی ہیں۔ پرتگیزوں نے بلوچ ساحل پر قبضہ جمانے کے لئے ظلم و بربریت کی تاریخ رقم کی تھی۔مگر بلوچ فرزندوں نے خاموشی سے مظالم سہنا گوارا نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے ظالم کے سامنے سرخم تسلیم کردیا بلکہ ساحل کی دفاع کی خاطر بھرپور مزاحمت کی۔
بلوچ مزاحمت کار میر حمل نے سولہویں صدی میں ساحل کا دفاع کرتے ہوئے پرتگیزیوں سے کئی جنگیں لڑے اور کئی دفعہ فتح حاصل کرکے انہوں نے پرتگیزیوں سے جنگی توپیں چھینیں۔ ا س سے پہلے ان کے چچا میر سمائیل نے پرتگیزیوں سے کئی معرکے کئے اور انہیں شکست بھی دیں۔ یہ جنگیں بلوچ مزاحمت کاروں نے آج نہیں بلکہ پانچ سو صدی پہلے لڑے ہیں۔ یعنی بلوچ 1958ء سے نہیں بلکہ کئی صدیوں سے گوادر کا مالک رہا ہے۔
گودار سلطنت عمان، اور پھر سے بلوچستان کا حصہ کیسے بنا؟
تقسیم ہند سے پہلے جب بلوچ ایک خودمختار ریاست کے مالک تھے اور اس خطے کی دوسری ریاستوں کے ساتھ بلوچ ریاست کا تجارتی اور سیاسی تعلقات تھے۔ مسقط عمان کے حکمرانوں کا بلوچ حکمرانوں کے ساتھ قدیم تعلقات تھے۔مسقط عمان کے حاکم سعید سلطان بن احمد کو جب اندرونی بغاوت کا سامنا ہوا تھا تو پناہ کی خاطر بلوچ حکمران میر نصیر خان کے پاس آگئے تھے۔ 1783ء میں میر نصیر خان نے مسقط کے شہزادے کو گوادر صرف بطور پناہ گاہ دیا تھا تاکہ وہ یہاں رہ سکے۔1792ء میں عمانی شہزادہ دوبارہ تخت مسقط کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو گوادر کو سلطنت عمان کا حصہ بنایا۔ گوادر کے بلوچوں کو اپنی فوج میں بھرتی کرنا شروع کیا اور آج بھی بلوچ بڑی تعداد میں اس فوج کا حصہ ہیں۔ بلوچوں کی ایک بہت بڑی آبادی سلطنت عمان میں آباد ہیں۔
جہاں تک گوادر خریدنے کی بات ہے تو1958ء کے پاکستانی وزیراعظم فیروز خان نون کا پارلیمانی اجلاس میں کیا گیا تقریر تاریخ کا حصہ ہے جہاں انہوں نے یہ اعلان کیا کہ عمان کے سلطان سعید بن تیمور نے گوادر جذبہ خیر سگالی کے تحت بلا معاوضہ پاکستان(صوبہ بلوچستان) کے حوالے کیا ہے جو نسلی، لسانی،جغرافیائی، تاریخی اور فطری طور پاکستان (صوبہ بلوچستان) کا حصہ تھا۔
حاکم وقت بزور طاقت گوادر کو سیل کرکے وفاق کے ماتحت کرلیں یا بے شک بلوچ ساحل میں بلوچ ماہی گیر کے داخلہ پر پابندی لگا دیں مگر بلوچ اس ساحل کی وراثت اور ملکیت سے نہ کبھی دستبردار ہوئے ہیں اور نہ ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں