ناجائز حکومت کا خاتمہ ہماری تحریک ہے، مولانا فضل الرحمن

درہ آدم خیل: سربراہ جمعیت علماء اسلام (ف) مولانافضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمیں تو فلسطین کی آزادی کیلئے بات کرنی چاہیے لیکن افسوس کے ساتھ آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کی جا رہی ہے، ناجائز حکومت کا خاتمہ ہماری تحریک ہے، قادیانیوں کو غیر مسلم پارلیمان کے ذریعہ قرار دیا گیا، ہم نے میثاق کے پاکستان کے تحت چلنا ہے، ملک کو اسلامی طاقت بنانے کیلئے ہمیں سیاسی بنانا ہو گا، ووٹ چوری کی اجازت کسی کو نہیں دے سکتے۔جمعہ کو درہ آدم خیل میں سربراہ جمعیت علماء اسلام (ف) فضل الرحمان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اسلامی ممالک اپنے بھائیوں کو بھول گئے ہیں، ہمیں تو فلسطین ا یک آزادی کیلئے بات کرنی چاہیے لیکن افسوس کے ساتھ آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کی جا رہی ہے، آج امت مسلمہ کو فلسطین کے اصل مالک بھول گئے ہیں، قبلہ اول کو بھی بھلا دیا ہے جبکہ آج تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی کہتی ہیں کہ اللہ نے کعبہ ہمیں دیا ہے اور بیت المقدس انہیں دے دے دیا، آج ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ قبلہ اول بھی ہمارا ہے اور بیت الحرام بھی ہمارا ہے، اسرائیل میں یہودیوں کے قبضے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن جب آج کے حکمران ایسی باتیں کرتے ہیں تو ہم یہودی کا ایجنٹ کہتے ہیں تو پھر ناراض ہوتے ہیں۔ فضل الرحمان نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سازشیں آج ملک میں چل رہی ہیں اور ان سازشوں کو کسی طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس حکومت کے خاتمے کیلئے تحریک چلائی ہے، ناجائز حکومت کا خاتمہ ہماری تحریک ہے جبکہ جمہوریت ایک نظام ہے جس میں ہم اسلام اور نظریہ کی بات کر سکتے ہیں، پارلیمان نے تسلیم کیا ہے کہ اسلام ملک کا مذہب ہو گا اور کوئی قانون قرآن و سنت کے بغیر نہیں بنے گا، ناموس رسالت کا قانون پارلیمان سے منظور ہوا، قادیانیوں کو غیر مسلم پارلیمان کے ذریعہ قرار دیا گیا، ہم نے میثاق کے پاکستان کے تحت چلنا ہے۔ فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کو اسلامی طاقت بنانے کیلئے ہمیں سیاسی بنانا ہو گا اور یہ سفر جاری ہے اور فتح تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام محترم شہری ہیں اور ووٹ چوری کی اجازت کسی کو نہیں دے سکتے ہیں، اگر کوئی ووٹ چوری کر کے حکومت کریگا تو سینہ تان کر سامنے آئیں گے، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں